تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 430
تاریخ احمدیت۔جلد 22 430 سال 1964ء کی منظوری سے ایک کمیٹی قائم ہوئی۔جس کے ممبران یہ تھے۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ممبر، مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب ممبر، مکرم سید طاہر احمد صاحب صد ر اور مکرم میرسید محمود احمد صاحب نائب نا ظر تعلیم سیکرٹری کمیٹی۔دسمبر ۲۰۰۳ء میں حضور انور نے محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کو کمیٹی کا صدر مقرر فرما دیا اور اسی طرح جنوری ۲۰۰۹ء سے مکرم مشہود احمد صاحب نائب نا ظر تعلیم اس کے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اس کمیٹی کے ذریعہ بیسیوں تبرکات کا ریکارڈ محفوظ کیا جا چکا ہے اور مسلسل اعلانات کے ذریعہ احباب جماعت کو اس بات کی طرف توجہ بھی دلائی جارہی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود تبرکات اس کمیٹی کے پاس ریکارڈ بھی کروا دیں تاکہ ان کا استناد قائم رہے۔مجلس مشاورت ۱۹۶۴ جماعت احمدیہ کی پینتالیسویں ۴۵ مجلس مشاورت ۲،۲۱،۲۰ مارچ ۱۹۶۴ء کوتعلیم الاسلام کالج ربوہ کے وسیع و عریض ہال میں منعقد ہوئی۔اس مشاورت میں ۳۰۷ جماعتوں کے۵۹۲ نمائندگان شامل ہوئے۔صدارت کے فرائض حضرت مصلح موعود کے خصوصی ارشاد کے مطابق حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع لائکپور (فیصل آباد ) نے سرانجام دیئے۔رائے شماری اور شوری کی دیگر دوسری کا رروائی میں اعانت کے لئے جناب مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور صاحب صدر کے ہمراہ سٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔حضرت شیخ صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا:۔حضرت صاحب بوجہ بیماری تشریف نہیں لا سکے۔گزشتہ سال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہم میں تھے اور ہمیں ان کی راہنمائی ، ان کی دعائیں اور ان کا تجربہ حاصل تھا۔یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت کے ماتحت اس مجلس مشاورت میں ہمیں حاصل نہیں ہیں۔اس لحاظ سے ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔جس قدر بھی نمائندگان ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو جو آج ہم پر عائد ہوئی ہے پورے طور پر سمجھتے ہیں اور اپنے ذہن نشین رکھیں گے۔خواہ سب کمیٹیوں کے لئے نام تجویز کرنے ہوں یا سب کمیٹیوں میں معاملات پر غور کرنا ہو