تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 429 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 429

تاریخ احمدیت۔جلد 22 429 سال 1964ء مَكَانٍ سَحِيْقٍ ذَلِكَ وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعَابِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج : ۳۲ تا ۳۴) یعنی تم خدا کا شریک کسی کو نہ بناؤ اور جو اللہ کا شریک کسی کو بناتا ہے وہ آسمان سے گر جاتا ہے۔اور پرندے اس کو اُچک کر لے جاتے ہیں۔اور ہوا اس کو کسی دوسری جگہ پھینک دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ نشانیوں کی عزت کرے گا تو اُس کے اس فعل کو دلوں کا تقویٰ قرار دیا جائے گا۔یادرکھو کہ ان قربانیوں سے ایک مدت تک تم کو نفع حاصل کرنا جائز ہے پھر خدا کے پرانے گھر تک ان کو پہنچانا ضروری ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ شعائر اللہ کی عظمت کے احساس اور اسے قائم رکھنے میں شرک کی ملونی نہیں ہونی چاہیئے۔بلکہ اس کی بنیاد دلوں کے تقویٰ پر ہونی چاہیئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ فرمان بھی اس نوعیت کی احتیاط کی ضرورت کو واضح کر رہا ہے جو حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی ایک روایت میں بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور خدا کے واسطے میرا ایک سوال ہے۔فرمایا کہو کیا ہے۔عرض کیا کہ حضور یہ (سرخی کے نشان والا ) گر تہ تبر کا مجھے دے دیں۔فرمایا نہیں یہ تو ہم نہیں دیتے۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے ابھی تو فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات صحابہؓ نے رکھے۔اس پر فرمایا کہ یہ گر تہ میں اس واسطے نہیں دیتا کہ میرے اور تیرے مرنے کے بعد اس سے شرک پھیلے گا۔اس کی پوجا کریں گے۔اس کو لوگ زیارت بنالیں گے۔باقی رہی تبرکات کی تاریخی حیثیت اور ان کے اصلی ہونے کے ثبوت کو مہیا کرنا تو یہ طریق بھی درست اور مناسب ہے اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی شرعی روک نہیں بلکہ اسلام پسند کرتا ہے کہ علمی صداقتوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔36- خاکسار :۔بشارت الرحمن ، نذیر احمد مبشر ، مرزا رفیع احمد سید داؤ د احمد ، ملک سیف الرحمن“۔چنانچہ ان سفارشات کے مطابق مرکز سلسلہ ربوہ میں حفاظت تبرکات کے لئے ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی۔یہ کمیٹی ایک عرصہ قائم رہی مگر اس سلسلہ میں کوئی عملی پیش رفت ریکارڈ سے ظاہر نہیں پھر آہستہ آہستہ یہ کمیٹی غیر مؤثر ہوگئی۔جماعتی ریکارڈ کے مطابق نومبر ۲۰۰۳ء میں حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز ت