تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 428
تاریخ احمدیت۔جلد 22 428 سال 1964ء صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب۔سید میر داؤد احمد صاحب (پرنسپل جامعہ احمدیہ )۔صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم۔اے (پروفیسر تعلیم الاسلام کالج )۔ملک سیف الرحمن صاحب (مفتی سلسلہ احمدیہ )۔مولوی نذیر احمد صاحب مبشر ( سابق انچارج احمد یہ مشن غانا )۔سب کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے۔تمام متعلقہ حوالہ جات اور دلائل پر غور کرنے کے بعد سب کمیٹی نے متفقہ طور پر حسب ذیل رپورٹ پیش کی:۔شعائر اللہ اور دوسرے تبرکات کی حفاظت کا انتظام کرنا تاریخی اور علمی صداقت کے لحاظ سے نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض حالات میں ہمارے لئے ضروری بھی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَحَمَلْنَهُ عَلَى ذَاتِ الْوَاجِ وَدُسُرٍ تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَاء لِمَنْ كَانَ كُفِرَ وَلَقَدْ تَرَكْنَهَا ايَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذْرِ (القمر: ۴ تا ۱۷) یعنی ہم نے اس ( نوح ) کو ایک تختوں اور کیلوں والی کشتی پر اٹھالیا۔وہ ہماری آنکھوں کے سامنے (یعنی ہماری نگرانی میں) چلتی تھی۔یہ اس شخص کی جزا تھی جس کا انکار کیا گیا تھا۔اور ہم نے اس کو ایک نشان کے طور پر ( پچھلی اقوام ) کے لئے چھوڑا۔پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔اسی طرح بنی اسرائیل کے ذکر میں فرمایا: وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكِةَ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِيْنَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ أَلُ مُوسى وَال هَرُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَكَةُ إِنَّ فِي َذلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (البقرة : ۲۴۹) یعنی ان کے نبی نے ان سے کہا اس کی حکومت کی دلیل یہ بھی ہے کہ تمہیں ایک تابوت ملے گا۔جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ہوگی اور ان چیزوں کا بقیہ ہوگا جو موسیٰ کے متعلقین اور ہارون کے متعلقین نے اپنے پیچھے چھوڑیں۔فرشتے اُسے اٹھائے ہوئے ہو نگے۔اگر تم مؤمن ہو تو اس بات میں تمہارے لئے یقیناً ایک بڑا نشان ہے۔پس جہاں تک شعائر اللہ اور تبرکات کی حفاظت کے جواز کا تعلق ہے وہ ان آیات سے ظاہر ہے۔لیکن اس سلسلہ میں یہ احتیاط اشد ضروری ہے کہ حفاظت کا طریق ایسا ہونا چاہئے جو منجر الی الشرک نہ ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: حُنَفَاءَ لِلهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَنْ تُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ الرَّيْحُ فِي