تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 427 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 427

تاریخ احمدیت۔جلد 22 427 سال 1964ء نیز ملاحظہ ہو۔محمد عبدہ کی تفسیر المنار جلد سوم نمبر ۳۱۶ حاشیہ اور جلد چہارم نمبر ۲۰ حاشیہ میں ) اس جملہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - ناقل) کے شروع میں بلکہ (بل) کا لفظ یہودیوں کے اس عقیدہ کے مقابلہ میں کہ انہوں نے عیسی علیہ السلام کو ایک شرمناک صلیبی موت دی۔اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ خدا نے اسے اپنا قرب عطا کیا“۔(صفحہ ۱۷۷ ۱۷۸) الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پر تین صدیاں نہیں صرف باسٹھ سال ہی گذرے تھے کہ مرکز اسلام مکہ معظمہ سے یہ اعلان کیا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔مسیح کے رفع جسمانی کا قرآن اور مستند احادیث سے قطعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا اور اس سلسلہ میں قدیم مفسرین کے بیانات رڈ کر دینے کے لائق ہیں۔محمد خالد اقبال ایم اے مقیم و و کنگ انگلستان سب سے پہلے اہل قلم تھے جنہوں نے اس نئے دو انگریزی ترجمۃ القرآن کی اس خصوصیت سے نقاب اٹھایا اور لاہور کے اخبار ”پیغام صلح (۲۱ را پریل ۱۹۶۵ء) میں اس پر ایک مقالہ شائع کیا ازاں بعد شیخ نور احمد صاحب منیر مجاہد بلاد عر بیہ نے اخبار الفضل ( ۸ مئی ۱۹۶۵ء) میں اس مقالہ کے ضروری حصے سپر داشاعت کئے اس طرح پوری دنیائے احمدیت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی فتح مبین کا علم ہوا۔ڈاکٹر محمد اسد جنہوں نے ۱۹۶۴ء میں صرف پہلی ۹ سورتوں کا ترجمہ شائع کیا تھا نے خدمت قرآن کا سلسلہ جاری رکھا اور ۱۹۸۰ء میں لندن میں مکمل انگریزی ترجمہ قرآن شائع کر دیا اور اس میں وفات مسیح سے متعلق اپنے ترجمہ اور تفسیر کو لفظ الفظاً قائم رکھا یہ کمل ترجمہ دو ہزار صفحات پر مشتمل تھا۔جس کی اشاعت کی سعادت حسب ذیل ادارہ کو حاصل ہوئی:۔Distributors: E۔J۔Brill - London, Publishers and booksellers 41, Museum Street, London WC1A 1LX تبرکات کی حفاظت کا شرعی جواز اور انتظام تاریخی میوزیم کی تجویز کا ذکر قبل ازیں آچکا ہے۔اس تسلسل میں نگران بورڈ نے اس سکیم کے مطابق تبرکات کی حفاظت کے شرعی پہلو کی وضاحت کے لئے یہ معاملہ بغرض مشورہ مجلس افتاء میں بھجوایا۔مجلس نے ۱۴ مارچ ۱۹۶۴ء کو اس غرض کے لئے مندرجہ ذیل سب کمیٹی مقرر کی :-