تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 421
تاریخ احمدیت۔جلد 22 421 سال 1964ء 31 نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گذر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یکدفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔اس مہتم بالشان پیشگوئی کا ظہور اس سال بھی ہوا جبکہ رابطہ عالم اسلامی ( مسلم ورلڈ لیگ مکہ ) کے زیر اہتمام چھپنے والے انگریزی ترجمہ و تفسیر القرآن میں وفات مسیح کا واشگاف لفظوں میں اعلان کیا گیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام اس سال THE MESSAGE" OF THE QURAN کے نام سے انگریزی ترجمہ و تفسیر کی پہلی جلد منصہ شہود پر آئی جو مشہور مسلمان جرمن مفکر ڈاکٹر محمد اسد نے سپرد قلم کی تھی۔( ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں دستورسازی کے ابتدائی مراحل میں اسلامی دستور کے موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ تحریر کیا تھا جو پاکستان میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ایک کتاب بعنوانِ اسلام میں حکومت کے اصول، بھی لکھی ہے۔وہ طنجہ (مراکش) میں سفارتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔انہیں جولائی ۱۹۸۳ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں انصاری کمیشن کا اعزازی رکن بنایا تھا۔اس تفسیر میں بالکل واضح لفظوں میں حضرت مسیح ناصری کی وفات کے نظریہ کو قرآنی حقائق کی روشنی میں تسلیم کیا گیا تھا جو بلاشبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی زبردست فتح تھی۔جیسا کہ اس انگریزی ترجمہ وتفسیر کے درج ذیل چار اقتباسات سے واضح ہے۔پہلا اقتباس (انگریزی ترجمه سوره مائده آیت ۱۱۶، ۱۱۷)