تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 411
تاریخ احمدیت۔جلد 22 411 سال 1964ء بخشے جن سے خلافت کا برکات سے پر نظام ہمیشہ ہمیش کے لئے مضبوط سے مضبوط ہوتا چلا جائے۔اس سال جنوری میں خاکسار نے سواحیلی زبان میں متعدد مضامین پیشگوئی مصلح موعود اور نظام خلافت کے بارے میں لکھے تھے۔یہ مضامین ہمارے ماہانہ سواحیلی اخبار MAPENZI YA" "MUNGU ( ترجمہ محبت الہی میں فروری اور مارچ کے پرچوں میں شائع ہوئے ہیں۔فروری کے شروع میں خاکسار نے تمام ایشین اور افریقن جماعتوں کو ہدایات بھجوائی تھیں کہ ہر جگہ ۲۰ فروری کو اور بعد میں مارچ تک جلسے کئے جائیں۔جن میں یہ مضامین پڑھ کر سنانے کے علاوہ دوسری تقاریر بھی کی جائیں اور خدا تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں کے حصول پر شکر ادا کیا جائے اور اجتماعی دعائیں کی جائیں۔اور غیر احمدی اور عیسائی احباب کو بھی ان جلسوں میں شمولیت کی دعوت دی جائے تا کہ انہیں بھی عظیم الہی پیشگوئیوں اور آسمانی نوروں سے اطلاع ہو اور جماعت کے مضبوط نظام خلافت کی برکات سے انہیں آگاہی حاصل ہو۔جماعتوں کی طرف سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ جلسے نہایت کامیابی سے کئے گئے ہیں اور غیر احمدی معززین نے بھی ان میں شمولیت کر کے جماعت احمدیہ کے بارہ میں بڑے عمدہ خیالات کا اظہار کیا ہے اور سنی مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بھول کر اس واحد اسلامی تبلیغی جماعت کا ساتھ دیں جو درحقیقت لشکر اسلام ہے اور جہاد میں مصروف ہے۔پیارے آقا! ہمارے افریقن بھائیوں کے دل میں ایک بار پھر حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے اور حضور کو اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھنے اور حضور کے بابرکت ہاتھوں کو بوسہ دینے اور حضور کی دعائیں لینے کی بے پناہ تڑپ پیدا ہوگئی ہے۔یہاں دار السلام کی جماعت کے جلسہ میں جب خاکسار نے یہ بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا وجود اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ہی وجود ہے اور حضور نے رویا میں انا المسيح الموعود کہہ کر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے تو افریقن احباب پر رقت طاری ہوگئی اور بعد میں بعض نے کہا کہ ہمیں جلدی ربوہ بھجوانے کا انتظام کریں تا ہم حضور کی زیارت سے مشرف ہو سکیں“۔مکرم ڈاکٹر محمد ظفر صاحب ٹانگانیکا ( تنزانیہ ) نے مکتوب تحریر کیا کہ:۔مؤرخہ ۱۴/ مارچ بروز ہفتہ آپ کے عہد خلافت پر پچاس برس پورے ہوئے ہیں۔جس کی وجہ سے جماعت کے ہر مردو زن جوان بوڑھے اور بچے میں خوشی کی لہر دوڑ رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے کس