تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 403 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 403

تاریخ احمدیت۔جلد 22 403 سال 1964ء بجلی کے رنگ برنگے قمقموں سے چراغاں کیا گیا۔نیز بازاروں میں دکانوں پر اور محلہ جات میں احباب نے اپنے طور پر گھروں پر کہیں بجلی کے قمقے اور کہیں موم بتیاں روشن کر کے چراغاں کا اہتمام کیا۔چراغاں کے باعث گول بازار اور سڑکوں پر نماز عشاء کے بعد تک خاصی چہل پہل اور رونق رہی۔۲۰ مارچ ۱۹۶۴ء کو جمعہ تھا۔اس روز ربوہ میں مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا:۔درهم امارچ ۱۹۶۴ء کو ہمارے موجودہ امام حضرت سید نا بشیر الدین محمود احمد مصلح موعود عافاه الله الودود کی خلافت پر پچاس سال گزر چکے ہیں۔یہ امر یقیناً ہمارے لئے موجب مسرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قائم کی ہوئی جماعت کو گذشتہ پچھتر سال میں اپنوں اور بیگانوں کی شدید مخالفت کے باوجود بے نظیر ترقی بخشی۔حوادث کی آندھیاں چلیں، مخالفتوں کے طوفان اٹھے، قسما قسم کے امتحان آئے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ہر ابتلا اور ہر امتحان میں پوری اتری اور ہمارے موجودہ پیارے امام کے عہد خلافت میں جماعت اکناف عالم میں پھیل گئی اور تبلیغ اسلام کا عالمگیر نظام جاری کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ:۔ا بھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسی کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس عقیدے کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا“۔آج پہلی صدی میں سے پچھتر سال گزر چکے ہیں اور اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کو اسلام کی اشاعت کے لئے خاص جوش عطا کیا اور ان کی حقیر قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے لئے ایسے اعلیٰ اور شاندار نتائج نکالے کہ جماعت کے اشد مخالفوں کو بھی یہ اقرار کرنا پڑا کہ:۔یہ ایک تناور درخت ہو چلا ہے اس کی شاخیں ایک طرف چین میں اور دوسری طرف یورپ میں پھیلتی نظر آتی ہیں۔اور مفکر احرار چوہدری افضل حق کو لکھنا پڑا:۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا۔۔۔۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے