تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 386
تاریخ احمدیت۔جلد 22 386 سال 1963ء حضرت خلیفہ اول اپنے علم و فضل اور تقویٰ و طہارت اور توکل علی اللہ اور اطاعت امام میں ایسا مقام رکھتے تھے جو بعض لحاظ سے عدیم المثال تھا۔آپ کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر کافی ہے ہے چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس مردمومن کے متعلق یہ شاندار توصیفی الفاظ استعمال کئے ہیں کہ مولوی نورالدین صاحب اس طرح میری پیروی کرتے ہیں جس طرح انسان کی نبض اس کے دل کی حرکت کے پیچھے چلتی ہے۔حقیقتا مولوی صاحب کا مقام اطاعت اور مقام توکل بہت ہی بلند تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعوے سے قبل یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ مجھے کوئی ایسا مددگار عطا فرمائے جو میرا دست و بازو ہو کر کام کر سکے۔چنانچہ جب حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔تو انہیں دیکھتے ہی حضور کے دل سے یہ صدا نکلی کہ هذا دعائي یعنی یہ مردمومن میری دعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ ہے۔حضرت خلیفہ اول کی ارفع شان اور علم کی گہرائی اور خدا داد بصیرت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی ابھی بچہ ہی تھے کہ حضرت خلیفہ اول نے ان کے متعلق وثوق کے ساتھ فرمایا کہ یہی ہونے والا مصلح موعود ہے۔میں نے شیخ عبد القادر صاحب کی اس کتاب کو کہیں کہیں سے دیکھا ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ خدا کے فضل سے یہ کتاب بھی قریبا قریبا اسی شان کی کتاب ہوگی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح میں لکھی ہے۔مجھے یقین ہے کہ دوست اس مفید کتاب کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں گے تاکہ حضرت خلیفہ اول کے انوار قدسیہ سے زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کر سکیں۔خاکسار مرزا بشیر احمد ، ربوه ے۔اصحاب احمد جلد پنجم حصہ دوم سیرت حضرت مولوی سید محمد سرورشاه ( ملک صلاح الدین صاحب ایم اے)