تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 385
تاریخ احمدیت۔جلد 22 385 سال 1963ء آپ کی یہ کاوش بہت ہی پیاری اور نہایت قابل تحسین ہے۔زبان سلیس اور پاکیزہ ، طرز بیان اچھوتا، زندگی کی ایک ایک منزل کو علیحدہ علیحدہ چھوٹے چھوٹے ابواب میں نکھار کر پیش کیا ہے۔تحقیق گہری ہے اور ہر بات ثقہ، ایک عالم کے لئے بھی اس کا مطالعہ مفید ہے اور جاہل کے لئے بھی۔بڑوں کے لئے بھی اور چھوٹوں کے لئے بھی۔افسوس کہ ابھی تک اس کتاب کا صرف پہلا حصہ شائع ہوسکا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن سے لے کر دعوی نبوت تک حاوی ہے۔کتاب ختم کرنے کے بعد ایک پہلو سے تشنگی بجھتی ہے تو ایک پہلو سے اور بھی بھڑک اٹھتی ہے۔دل مزید تقاضا کرتا ہے۔خصوصا بچوں کی تربیت اور ان کے دلوں میں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت پیدا کرنے کے لئے یہ کتاب نہایت ہی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔کیونکہ اس کا ایک ایک لفظ عشق رسول میں گندھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ محترم شیخ صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور جلد از جلد اس نیک کام کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۲۔ہماری تعلیم مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ( از کشتی نوح) کا پشتو ترجمہ کی پہلی مرتبہ 95 اشاعت ہوئی۔تحریری مناظره ما بین مولانا ابوالعطاء و پادری عبدالحق صاحب چندی گڑھ، انڈیا ۴- راه ایمان - انگریزی ترجمہ ۵- آئینہ جمال تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۲ء ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) -۶۔حیات نور (مولانا شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ ) اس کتاب کا پیش لفظ حضرت وو صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا جو درج ذیل کیا جاتا ہے:۔شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ لاہور اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”حیات طیبہ ( سيرة حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی وجہ سے جماعت میں کافی متعارف ہو چکے ہیں اور شہرت پا چکے ہیں۔اب انہوں نے خدا تعالیٰ کی توفیق سے حضرت حاجی الحرمین مولوی حکیم نور الد ین صاحب خلیفہ اول کی سیرۃ لکھنی شروع کی ہے اور مجھ سے اس کا پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی ہے۔