تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 372 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 372

تاریخ احمدیت۔جلد 22 372۔سال 1963ء خلافت ثالثہ کے بعد خلافت رابعہ کا دور شروع ہوا تو یہ بھی کینیڈا کی خوش بختی تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بھی ہماری درخواست کو شرف قبولیت عطا فر مایا اور ۱۸ستمبر ۱۹۸۶ء کوکینیڈ اتشریف لائے اور ۲۵ ستمبر ۱۹۸۶ء تک ( ٹورانٹو شہر میں ) قیام فرمایا۔یہاں تشریف لانے کا سب سے بڑا مقصد ٹورانٹو میں جماعت کی مرکزی مسجد کا سنگ بنیا درکھنا تھا جس کی کسی قدر تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔۲۰ ستمبر ۱۹۸۶ء ہفتہ کا دن تاریخ احمدیت کینیڈا میں وہ سنگ میل تھا جبکہ سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے مسجد احمدیہ مرکز یہ کینیڈا کا سنگ بنیاد Maple Town ( نواحِ ٹورانٹو ) میں نصب فرمایا۔اس سے قبل آپ نے اعلان فرمایا کہ جماعت احمد یہ جہاں بھی مسجد بنائے گی وہ قرآن کریم کے بیان فرمودہ مقاصد کے لئے بنائے گی۔یہ مقاصد وہی ہیں جن کے لئے دنیا میں سب سے پہلا اللہ کا گھر تعمیر کیا گیا اور یہاں بھی خدا کا گھر انہی مقاصد کے لئے تعمیر کیا جائے گا۔اس بابرکت تقریب کا آغاز صبح ساڑھے گیارہ بجے تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔مکرم نیم مهدی صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا۔مسی ساگا کی میئر اور صوبہ اونٹاریو کی وزیر شہریت کی نمائندہ نے حضور کا خیر مقدم کیا اور خوش آمدید کہا۔جس کے بعد حضور نے خطاب فرمایا اور اسلام میں مسجد کی اہمیت اور ان کی افادیت بیان فرمائی اور فرمایا کہ اس مسجد کی انفرادی اور تاریخی اہمیت بھی ہے۔خدا کے گھر کی تعمیر کی غرض و غایت سے یہاں کے لوگ ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں اور اللہ کا گھر یہاں کیا تغیر لائے گا۔حضور نے ان شکوک کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ زمانہ میں تو عبادت گاہیں سیاست کا اڈہ بن گئی ہیں۔فتنہ وفساد کا گھر ہیں اور دہشت گردی کا مرکز ہیں لیکن ہم نے جہاں کہیں بھی خدا کا گھر بنایا ہے اور آئندہ بنائیں گے وہ نفرت پھیلانے ، دہشت اور تشدد پیدا کرنے کے لئے ہر گز نہیں ہوگا۔بلکہ محبت اور امن اور صلح کا مرکز ہوگا اور جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں وہ رسی نہیں بلکہ معناً اپنے الفاظ کی گہرائیوں کو ادا کر رہے تھے اور دونوں میئر صاحبان کو یقین دلایا کہ ہم ان کے خوبصورت شہروں میں بھی اللہ کا گھر بنائیں گے۔یہ تو آغاز ہے آخیر نہیں۔اس کے بعد خلیفہ عبدالعزیز صاحب نیشنل پریذیڈنٹ نے حضور اور تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد حضور نے سنگ بنیاد رکھا جو بیت مبارک قادیان کی ایک اینٹ تھی۔حضور کے بعد حضرت بیگم صاحبہ نیز جماعت کینیڈا کے نمائندگان اور بیرونی معززین نے اینٹ رکھنے کا شرف حاصل کیا جن کی تعداد ےس تھی۔