تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 371
تاریخ احمدیت۔جلد 22 371 سال 1963ء تھی۔لیکن صرف ایک سال ۱۹۸۷ء میں ۶۷۲۴۲ ڈالر کے نئے وعدہ جات ہوئے اور ایک سال میں ۱۲۲۶۷۹ ڈالر کی ادائیگی کی توفیق ملی۔جماعت کینیڈا کی اس قربانی کا ذکر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱ مارچ ۱۹۸۸ء میں بھی فرمایا۔الحمد للہ ۱۹۸۸ء کے آغاز میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح نے نماز جمعہ با قاعدگی سے ادا کرنے کی تحریک فرمائی جس پر یہاں کے لوگوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا۔صرف ٹورانٹو اور گردونواح کی جماعتوں سے یکصد پچاس (۱۵۰) احباب مستقل طور پر نماز جمعہ کے لئے حاضر ہوئے تھے لیکن ۳ ماہ کے اندر اندر یہ تعداد بڑھ کر ۲۵۸ ہو گئی اور اب تک نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے آٹھ مراکز قائم کئے جاچکے ہیں اس کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر تبلیغی اشتہار دئے جاتے ہیں۔مختلف اوقات میں امیر ومشنری انچارج کینیڈا کے انٹرویو نشر کئے جاتے ہیں اور سلسلہ کی کتب کے بارہ میں بھی اعلانات کئے جاتے ہیں جن کا نمایاں فائدہ ہوا ہے۔ٹورانٹو چونکہ بین الاقوامی شہر ہے اور شمالی امریکہ کے بڑے شہروں میں اس کا شمار ہوتا ہے اور یہاں کی جماعت نمایاں حیثیت حاصل کر چکی ہے اس لئے دیگر ملکوں سے یا مرکز سے جماعت کی نمایاں شخصیات یہاں تشریف لاتی ہیں تو احباب جماعت کے لئے خوشی کا باعث ہوتا ہے۔یہ کینیڈا کی خوش بختی ہے کہ جماعت کے دو مقدس خلفاء نے اس ملک میں قدم رنجہ فرمایا اور برکت بخشی۔یہ کوئی معمولی سی بات نہیں۔بیسیوں ملک ہیں جہاں کے احمدیوں کو یہ نعمت اور سعادت نصیب نہیں ہوئی اور وہ اس نعمت کو ترستے ہیں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ پہلی بار یہاں ۸ اگست ۱۹۷۶ء کو تشریف لائے۔آپ کی تشریف آوری پر پریس اور ٹی وی پر خبر نشر ہوئی۔آپ نے پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔اس دورہ میں حضور نے مشن ہاؤس قائم کرنے کا ارشاد فرمایا نیز مبلغ بھی بھیجوانے کا وعدہ فرمایا۔آپ کے اعزاز میں جو عشائیہ دیا گیا اُس میں احباب جماعت کے علاوہ مرکزی اور صوبائی ممبران پارلیمنٹ، میونسپل کونسلرز نمائندگان پریس، ڈاکٹر ز اور وکلاء صاحبان نے شرکت فرمائی۔دورانِ قیام حضور نے سارے ملک کے نمائندگان ٹورانٹو بلوائے اور اجلاس کی صدارت فرمائی اور جماعتی مسائل کے حل اور ترقی کے منصوبہ پر غور و خوض کیا اور ہدایات فرمائیں۔حضور دوباره ۴ ستمبر ۱۹۸۰ء کو ہمارے ملک میں تشریف لائے اور ٹورانٹو میں چار یوم قیام فرمایا۔اس کے بعد تین روز کیلئے کیلگری تشریف لے گئے۔قیام کے دوران پر یس کا نفرنس سے خطاب فرمایا۔