تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 364
تاریخ احمدیت۔جلد 22 کینیا 364 سال 1963ء نیروبی کے اخبار ڈیلی سٹنڈرڈ امئی ۱۹۶۳ ء نے کینیا اور دوسرے احمدی مشنوں کی کامیاب تبلیغی مساعی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا:۔امریکن بائبل سوسائٹی نے اعتراف کیا ہے کہ افریقہ کے بہت سے علاقوں میں عیسائی مشنری جس رفتار سے مشرکوں کو عیسائی بناتے ہیں مسلم مشنری اس سے دگنی تعداد میں انہیں اسلام کے حلقہ بگوش بنا لیتے ہیں۔سوسائٹی کے ۱۴۷ ویں سالانہ اجلاس سے معا قبل ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جنوب کی طرف اسلام کی کامیاب یلغار افریقہ میں سوسائٹی (امریکن بائبل سوسائٹی) کے کام کو اور زیادہ مشکل بنارہی ہے۔بہت سے علاقوں میں کم سے کم اندازے کے مطابق مسلم مشنری افریقہ کے مشرکوں کو اس رفتار سے اسلام کا حلقہ بگوش بنا رہے ہیں کہ ہر اس ایک مشرک کے بالمقابل جسے عیسائیت اپنی طرف کھینچتی ہے وہ دومشرکوں کو اسلام کی آغوش میں کھینچ لیتے ہیں۔58 کینیڈا ( مختصر تاریخ ۱۹۶۳ء تا ۱۹۸۹ء) اس سال کا نہایت اہم واقعہ کینیڈا میں ابتدائی طور پر جماعت کا با قاعدہ قیام تھا۔بعد ازاں یہ سلسلہ پھیلتا اور پھولتا گیا اور اب تو دنیائے احمدیت میں یہاں کی جماعت کو ایک نمایاں مقام حاصل ہو چکا ہے۔مکرم حسن محمد خان عارف صاحب ۱۹۶۳ء سے ۱۹۸۹ ء تک کی مختصر تاریخ احمدیت کینیڈا کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔مرکز احمدیت قادیان اور ربوہ سے ہزاروں میل دور اس عظیم ملک کینیڈا میں آکر مستقل رہائش رکھنے والے سب سے پہلے احمدی جناب شیخ کرم دین صاحب ہیں جو ۱۹۱۹ء میں نواسکوشیا Nova Scotia تشریف لائے اور اب تک وہاں مقیم ہیں۔آپ کی پیدائش ۱۲ راگست ۱۸۹۹ء ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک حیات ہیں۔ایک اور دوست حبیب اللہ صاحب جو مکرم محمد شریف خالد صاحب نائب امیر مغربی جرمنی کے والد ماجد تھے ۱۹۲۲ء تک اپنے کاروبار کے سلسلہ میں مقیم رہے لیکن آپ نے بیعت واپس ہندوستان جا کر ۱۹۲۲ء میں کی۔ابتدائی آنے والے احمدیوں میں چند دوست یہ ہیں:۔صوفی عزیز احمد صاحب آٹوا، سید طاہر احمد صاحب بخاری ٹورانٹو ، قاضی مظہر الحق صاحب