تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 340
تاریخ احمدیت۔جلد 22 340 سال 1963ء کی اور تھانہ میں جا جا کر کہا کہ ہم جماعت احمدیہ کا جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔حالانکہ جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمہ فریقین کے موضوع پر مشتہر کیا گیا تھا۔تھانہ والوں نے مخالفین کو اول تو نرمی سے سمجھایا کہ ہر فرقہ کو مذہبی آزادی حاصل ہے اس لئے احمدیوں کو سیرت النبی جیسے مذہبی جلسے سے نہیں روکا جاسکتا۔لوگوں نے تھانہ والوں کی بات نہ مانی بلکہ بڑا جوش دکھلا کر کہا کہ اگر احمدیوں کا جلسہ ہوا تو خون ہو جائیں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہو گا جس کی ذمہ داری پولیس پر ہوگی۔تھا نہ والوں نے یہ سمجھ کر کہ فساد ہوگا اور حفاظتی تدابیر قلیل پولیس ہونے کی وجہ سے مشکل ہیں منتظمین جلسہ کو بلا کر کہا کہ کیا آپ ان حالات میں جلسہ ملتوی نہیں کر سکتے۔منتظمین جلسہ نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع نے ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔مسلمہ فریقین عنوان یعنی سیرت النبی پر تقاریر ہوں گی۔ہماری طرف سے کوئی فساد یا اشتعال انگیزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نیز جلسہ جماعت احمدیہ کی اپنی زمین پر مسجد احمدیہ کے صحن سے متصل میدان میں ہوگا۔اور جس طرح سنیوں اور شیعوں کو مذہبی جلسے کرنے کا حق ہے ہمیں بھی حق ہے اس لئے ہم تو جلسہ ملتوی نہیں کر سکتے اگر آپ اس کے باوجود جلسہ کرنے سے روک دیں گے تو پھر سُنیوں اور شیعوں کے جلسوں کو بھی روکنا ہوگا۔رہی حفاظت جو پولیس کا فرض ہے اگر آپ نہیں کر سکتے تو ہم خود اپنی حفاظت کریں گے۔اس دوران مرکز سے محترم قاضی محمد نذیر صاحب حال ناظر اشاعت لٹریچر و تصنیف ربوہ ، مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد، مکرم شیخ نور احمد صاحب منیر سابق مبلغ بلا دعر بیہ اور خاکسار راقم الحروف بھی اس جلسہ میں شرکت کی غرض سے کوٹلی پہنچے۔جلسہ کی کامیابی کے لئے دعا ئیں جاری تھیں۔جمعہ کی نماز کے بعد جلسہ پروگرام کے مطابق شروع ہونے والا تھا مگر تھانہ والے اور لوگ روک بن کر کھڑے نظر آ رہے تھے۔جمعہ سے قبل خاکسار نے ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ہم جلسہ گاہ کی طرف جارہے ہیں کہ ہمارے امیر قافله محترم قاضی محمد نذیر صاحب چلتے چلتے سڑک پر سجدہ میں گر گئے ہیں۔میں نے یہ کشف قاضی صاحب کو سُنایا۔انہوں نے فرمایا کہ خدا کے آگے سجدہ میں گر جانا قبولیت دعا اور کامیابی سے تعبیر ہوتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مخالف حالات میں کامیابی کے سامان کر دیئے۔تھانہ والوں نے غیر متوقع حالات میں عین نماز جمعہ سے قبل جماعت کو جلسہ کرنے کی منظوری دے دی اور کہا آپ جلسہ کرلیں ہم نے حفاظتی تدابیرمکمل کرلی ہیں۔یہ خبرسن کر جماعت نے پروگرام کے مطابق ۲۴مئی ۱۹۶۳ء