تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 322 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 322

تاریخ احمدیت۔جلد 22 322 سال 1963ء ریکارڈ نظارت بہشتی مقبرہ ربوہ) تقسیم ملک کے بعد ضلع لائل پور (فیصل آباد ) میں آباد ہوئے۔۲۷ دسمبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔202 203 کرنل ملک سلطان محمد خان صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع کیمل پور آپ اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔طبیعت میں اپنے خاندان کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔احترام قانون ، سخاوت، سچائی، جرات، وفاداری و حیاداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔پیغام حق پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔بات ہمیشہ ٹھوس اور مدلل کرتے تھے۔رعب و جلال اور ایسی وجاہت تھی کہ کسی کو ان کی موجودگی میں غلط بات کہنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔انکسار کا یہ عالم تھا کہ جلسہ سالانہ میں باوجود بیماری کے زمین پر بیٹھتے تھے اور امیر ضلع ہونے کے باوجود شیح کے ٹکٹ واپس کر دیتے۔۲۸ دسمبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔(آپ کی وصیت نہ تھی لیکن حضرت مصلح موعود کی خاص الخاص اجازت سے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کیا گیا۔آپ کے بارے میں مزید آپ کے صاحبزادے محترم سلطان رشید خان صاحب امیر ضلع اٹک (سابق کیمل پور ) رقمطراز ہیں:۔آپ کا سن پیدائش ۱۹۰۰ ء ہے۔ضلع اٹک کے ایک با اثر خاندان کے فرد تھے۔چنانچہ آپ کے ایک پھوپھی زاد بھائی سردار سرمحمد نواز خانصاحب آف کوٹ فتح خان پاکستان کے فرانس میں پہلے سفیر اور نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کی کابینہ میں وزیر دفاع رہے۔دوسری پھوپھی کے بیٹے ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر رہے۔ایک کر چین مشنری کالج میں پڑھنے کے دوران عیسائیوں کے زیر تبلیغ تھے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔چنانچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جلد ۱۹۲۴ء میں بیعت کر لی۔فوج میں ملازمت کی اور کرنل کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔آپ کو حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے داماد ہونے کا شرف حاصل تھا۔خلافت سے وابستگی میں ایک والہانہ رنگ تھا۔سیدنا حضرت مصلح موعود بعض اوقات انتہائی اہم کام آپ کے سپرد فرماتے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے اس کا ذکر خیر ان کے بیٹے کے خطبہ نکاح کے دوران کیا۔ضلع اٹک میں پہلی دفعہ ۱۹۵۰ء میں ضلعی نظام جاری ہوا تو آپ یہاں کے پہلے امیر ضلع منتخب ہوئے۔اور وفات تک جو ۲۸ دسمبر ۱۹۶۳ء کو جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر ہوئی امیر ضلع اٹک رہے۔۔204- 66