تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 321 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 321

تاریخ احمدیت۔جلد 22 321 سال 1963ء اپنی زندگی وقف کی۔۱۹۴۴ء سے ۱۹۴۷ء ( تقسیم برصغیر تک ) بطور نائب ناظر امور عامه خدمات سرانجام دیں۔اس کے بعد آپ کو درویشان قادیان کے مقدس زمرہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔۱۹۵۲ء میں ہفت روزہ بدر کے دوبارہ اجراء پر پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔سلسلہ کے سچے انتھک اور جانثار خادم تھے۔علاوہ ازیں ناظر امور عامہ و خارجہ کے اہم منصب پر کمال خوبی اور حسن عمل سے سرفراز رہے۔قادیان کے غیر مسلم معززین ان کے بلند اخلاق، ملنساری ، معاملہ نہی اور مہمان نوازی کے خصوصی اوصاف کے باعث ان سے بہت مانوس تھے۔درویشان قادیان کے لئے بھی آپ کا وجود بڑے سہارے کا موجب تھا۔۱۷ نومبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔جناب ملک راج صاحب سابق صدر منڈل کانگریس قادیان نے ان کی وفات حسرت آیات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ”مولوی صاحب کی وفات صدرانجمن احمدیہ کے لئے یقیناً بہت بڑا حادثہ ہے لیکن ان کے سینکڑوں ہندو سکھ دوستوں کے لئے ان کی وفات کمر توڑ صدمہ سے کم نہیں۔مولوی عبدالرحمن صاحب امیر جماعت کا بہت بڑار فیق اٹھ گیا۔اور شہر کے ہندو سکھ عوام کا عظیم دوست چلا گیا۔آپ کی اولا د میں مکرم امتیاز احمد را جیکی صاحب مقیم امریکہ ہیں۔مولوی برکت علی صاحب لائق آپ گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ میں ٹیچر تھے تقسیم ہند سے قبل شہر لدھیانہ میں آپ کا بہت اثر و رسوخ تھا۔تقسیم کے بعد جڑانوالہ میں آگئے۔جہاں آپ امیر جماعت کے طور پر خدمت سلسلہ بجالاتے رہے۔آپ خوش بیان مقرر تھے۔شعر و شاعری سے بھی خاص شغف تھا۔چہرہ نورانی تھا۔اپنوں اور بیگانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔۲۵ دسمبر ۱۹۶۳ء کو وفات پائی۔لیفٹیننٹ ڈاکٹر عبدالکریم صاحب آف چک ۹۶ صریح ضلع لائل پور 201 میاں مولا بخش صاحب آف گجر وال ضلع لدھیانہ کے صاحبزادے تھے۔۱۸۸۹ء میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ڈاکٹر عبدالکریم صاحب کا بیان ہے کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ میں دیکھا تھا۔گو آپ کی عمر اس وقت چھوٹی تھی اور کسی قسم کی دینی تعلیم آپ نے حاصل نہ کی تھی لیکن حضور کا چہرہ دیکھ کر ہی آپ کے اندر تبدیلی ہونی شروع ہوگئی تھی اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل سے ہی مرید ہو گئے۔گو آپ نے بیعت ۱۹۱۳ء میں دوران ملازمت افریقہ میں کی (بمطابق