تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 17 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 17

تاریخ احمدیت۔جلد 22 17 سال 1963ء بہاولپور کے اخبار ”رہبر نے اپنی ۲/ اپریل ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں اس مظاہرہ کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا: جماعت احمدیہ کے امیر ضلع چوہدری فضل احمد صاحب باجوہ آڑھتی غلہ منڈی نے ۳۱،۳۰ مارچ کو رحیم یارخان میں بالمقابل گرلز ہائی سکول کا رخانہ میں جلسہ عام کی اجازت لی تھی۔جب اس جلسہ کے ہینڈ بل تقسیم ہو گئے اور پوسٹر لگائے گئے تو شہری لوگوں نے غم وغصہ کا اظہار کیا اور ایک وفدتر تیب دیا یہ وفد ڈپٹی کمشنر کو ملا اور جلسہ کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے ایس پی رحیم یار خاں سے رپورٹ طلب کی۔فضل احمد صاحب باجوہ احمدی نے کہا کہ ہم نے حامد رضا وکیل سے کارخانہ مذکور میں جلسہ کرنے کی اجازت لی ہوئی ہے اور جب حامد رضا کا بیان لیا گیا تو اس نے منظوری دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ جلسہ جماعت احمدیہ کا ہے فضل احمد باجوہ نے مجھے کہا تھا کہ ہم سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جلسہ کر رہے ہیں۔اس لئے میں نے اجازت دے دی تھی مگر اب میں اس جگہ پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔چنانچہ اس کے انکار پر ڈی ایس پی نے ڈی سی کو رپورٹ کر دی۔اس کے باوجود شہر میں کشیدگی پائی جاتی رہی۔کل چار بجے کسی شخص نے مولوی غلام ربانی کو فون پر اطلاع دی کہ جماعت احمدیہ کا جلسہ ہورہا ہے۔چنانچہ مولوی مذکور تین چار صد افراد جن میں بندوقوں ، کلہاڑیوں، لاٹھیوں سے مسلح افراد کی تعداد بھی کافی تھی روانہ ہو گئے اور جلسہ گاہ پر دیکھنے کے لئے منتخب جگہ پر پہنچے تو معلوم ہوا اطلاع غلط دی گئی۔اس کے بعد تمام لوگ جلوس کی شکل میں شہر کی سڑکوں اور بازاروں سے گزرے اور احمد یہ ارکان اب بھی جلسہ کی اجازت لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس خبر سے ظاہر ہے کہ جلسہ سیرت النبی ﷺ کا تھا اور اسی وجہ سے حامد رضا صاحب وکیل نے کارخانہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی جس وفد نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے مل کر جلسہ کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔جناب ڈپٹی کمشنر صاحب نے فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں نفی میں جواب دیا اور فرمایا کہ جماعت کو جلسہ کرنے کا حق ہے۔وہ کرے گی۔اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حامد رضا صاحب کا قصد کیا گیا۔جب حامد رضا صاحب نے فضا مکدردیکھ کر کارخانہ میں جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔تو ڈی ایس پی صاحب کی رپورٹ پر جناب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پہلی اجازت منسوخ کر دی۔اور ادھر ڈی ایس پی صاحب اور بعض ماتحت افسران پولیس نے شہر کی فضا کو خراب پا