تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 300
تاریخ احمدیت۔جلد 22 300 سال 1963ء سے مولوی ابراہیم صاحب بھی ہیں اور نہ حنفی مسلمان اور نہ اہل تشیع۔ہاں سب سے بڑھ کر خلافت علی منہاج نبوۃ کے قائل تو ہم احمدی ہیں جن کا سلسلہ آج بھی خلافت حقہ پر قائم ہے۔اس جواب سے تمام مجمع پر خاموشی کا عالم طاری ہو گیا بعض لیڈروں نے مولوی صاحب سے کہا کا کہ آپ کو یہ سوال کرنے کی ضرورت نہ تھی ہمارا سارا کیا کرایا بر باد کر دیا۔بعض نے کہا ایسا جواب اتنے بڑے مجمع میں اس جرات کے ساتھ دینا صرف احمدیوں کا کام ہے۔یہ لوگ ننگی تلوار میں ہیں حق کے اظہار سے نہیں ڈرتے۔بعض نے کہا کہ دنیا میں ترقی کرنے والی قو میں ایسی ہی ہوتی ہیں۔کانپور میں ہفتہ عشرہ قیام کرنے کے بعد آپ بمبئی پہنچے اور وہاں سے بذریعہ جہاز بندرگاہ منگلور کی طرف روانہ ہوئے۔جب ساحل مالا بار دو ایک میل کے فاصلہ پر رہ گیا تو آپ دوسرے مسافروں کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوئے تو اچانک سمندر میں طوفان آگیا اور کشتی ڈگمگانے لگی۔ملاح اس ہولناک منظر سے خوفزدہ ہو کر زور زور سے یا پیر بخاری یا پیر عبدالقادر جیلانی یا پیر خضر کی صدائیں بلند کرنے لگے۔دیکھتے ہی دیکھتے کشتی میں پانی بھرنا شروع ہو گیا اور سب سواریوں کو موت سر پر منڈلاتی ہوئی نظر آنے لگی۔ملاحوں کی مشرکانہ صدائیں آپ کے لئے نا قابل برداشت تھیں۔آپ جوش کے عالم میں کھڑے ہو گئے اور ملاحوں سے کہا ایسے مشرکانہ کلمات سے تو بہ کر وصرف اللہ تعالیٰ کی جناب سے استمد اد کرو۔یہ سمندر تو میرے قادر و مقتدر خدا کا ایک ادنیٰ خادم ہے جو اس کے دستِ تصرف کے ماتحت مد وجزر دکھاتا ہے پس اگر وہ چاہے تو یہ جوش تموج اسی وقت ختم ہو سکتا ہے۔آپ نے منہ سے یہ کلمات نکالے ہی تھے کہ سمندر کا خوفناک طوفان یکا یک تھم گیا اور کشتی معمول کے مطابق چلنے لگی۔حضرت مولانا راجیکی صاحب فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں کہ طوفانی لہروں کی شدت کے وقت مجھے اس قدر روحانی طاقت محسوس ہوتی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ اگر ملاح اپنے مشرکانہ کلمات سے باز نہ آئے اور اس وجہ سے کشتی ڈوب گئی تو میں اور عزیز عرفانی صاحب سطح آب پر چل کر بفضلہ تعالیٰ سلامتی سے کنارے پر پہنچ جائیں گے۔کیونکہ ہم مرکز کی ہدایت کے ماتحت تبلیغ حق کے لئے جارہے تھے“۔سرزمین مالا بار میں آپ کا ورود بہت مبارک ثابت ہوا۔مالا باری احمدیوں کو مبائعین اور غیر مبائعین کے عقائد کے متعلق تفصیلی واقفیت ہوئی۔پینگا ڈی میں آپ نے ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔پینگا ڈی کے علاوہ آپ کنانور میں تشریف لے گئے جہاں آپ نے درس قرآن کا سلسلہ جاری