تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 295 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 295

تاریخ احمدیت۔جلد 22 295 سال 1963ء درخواستہائے بیعت سید نا حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھجوادی گئی۔الغرض اللہ تعالیٰ نے مونگھیر 141- میں سلسلہ احمدیہ کو فتح عظیم بخشی۔اسی سال آپ نے علماء سلسلہ کے ایک وفد کے ساتھ بنگال کا طویل سفر کیا۔کلکتہ میں محکمہ پولیس کے ایک افسر سے تصوف کے متعلق گفتگو فرمائی اور احمدیت کے علم کلام کی روشنی میں تصوّف کے بعض نکات بیان فرمائے۔وہ آپ کی باتیں سن کر بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے میں نے ایسی عارفانہ باتیں پہلے کبھی نہیں سنیں۔بر ضمن بڑ یہ میں بڑے پیمانے پر ایک جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔اس جلسہ سے سب ممبران وفد نے خطاب فرمایا۔حضرت مولانا راجیکی صاحب نے تقریر کے علاوہ بنگالی عالم مولوی واعظ الدین صاحب کے اعتراضوں کے نہایت مدلل اور مسکت جوابات دیئے اور ان کو موقعہ دیا کہ اگر وہ ان جوابات پر قرآن وحدیث کی رُو سے جرح کرنا چاہیں تو بخوشی کر سکتے ہیں لیکن ان کو جرات نہ ہوئی۔یہ وفد تقریباً سترہ دن تک بنگال کے مختلف مقامات کا دورہ کر کے تبلیغ حق کا فریضہ ادا کرتا رہا۔اس سفر کے نتیجہ میں آپ نا موافق آب و ہوا اور کثرت کار کی وجہ سے شدید بیمار ہو گئے اور عرصہ تک حضرت خلیفہ اول کے زیر علاج رہے۔142 خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں آپ کو بے شمار تربیتی وتبلیغی خدمات کے مواقع میسر آئے۔حضرت مولانا صاحب ۱۹۱۴ ء کے اوائل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔ا بھی خاکساراپنے سسرال کے گاؤں میں ہی تھا اور بیماری اور نقاہت بھی باقی تھی کہ مجھے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ارشاد ہوا کہ آپ فورا لا ہور پہنچ کر جماعت کو سنبھالیں۔مولوی محمد علی صاحب اپنے خیالات فاسدہ اور زہریلے اثرات سے جماعت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔چنانچہ خاکسارفور الا ہور پہنچ گیا اور آتے ہی جمعہ کے دن احمد یہ بلڈنگس کی مسجد میں جہاں ہم سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے عہد سعادت میں ہمیشہ نمازیں پڑھا کرتے تھے جمعہ کے لئے جانے کے واسطے تیاری کرنے لگا۔جب غیر مبائعین کے سرکردہ لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں جمعہ پڑھانے کے لئے احمد یہ بلڈنکس آرہا ہوں تو ڈاکٹرمحمد حسین شاہ صاحب نے مجھے نوٹس کے ذریعہ اطلاع دی کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ جمعہ پڑھانے کے لئے احمد یہ بلڈنگکس آرہے ہیں۔میں آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ احمد یہ بلڈنکس میں کوئی مسجد نہیں یہ ہمارا ذاتی مکان ہے اس میں اگر آپ آئے تو