تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 294 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 294

تاریخ احمدیت۔جلد 22 294 سال 1963ء میں شمولیت اور تبلیغی ملاقاتوں کے لئے تشریف لے جاتے۔بمبئی میں آپ کا سرگرم بہائی مشنری محمد ہاشم سے تبلیغی تبادلہ خیالات بھی ہوا۔محمد ہاشم صاحب لاجواب ہو گئے۔بمبئی سے روانہ ہو کر یہ وفد مدراس میں وارد ہوا اور حضرت سیٹھ حاجی عبد الرحمن اللہ رکھا صاحب کے ہاں قیام کیا۔0 اگلے سال آپ پہلے ایک جلسہ میں شمولیت کے لئے آگرہ تشریف لے گئے۔بعد ازاں مونگھیر (بہار) میں شاندار مباحثہ کیا۔شرائط مناظرہ کے مطابق آپ نے عربی میں پر چہ لکھا جب آپ اسے سنانے کے لئے اٹھے تو آپ نے محسوس کیا کہ کوئی چیز آسمان سے اتری ہے اور آپ کے وجود اور قومی اور حواس پر مسلط ہو گئی ہے جو دراصل روح القدس کی روحانی تجلی کا نزول تھا۔آپ کی آواز نہ بلند تھی اور نہ آپ خوش الحان تھے لیکن اس وقت حضرت مسیح موعود کی برکت اور خلیفہ اول کی دعا اور توجہ سے آپ کی آواز اس قدر بلند ہو گئی کہ پندرہ ہزار کے مجمع میں آسانی سے سنائی دینے لگی۔اور لحن داؤدی کا اعجازی نشان بھی آپ کو عطا کیا گیا۔جب آپ نے غیر احمدی علماء کی توقعات کے عین خلاف عربی پر چہ سنانا شروع کیا تو علماء معاندین مثلاً مولوی عبد الوہاب صاحب پروفیسر عربی کلکتہ کالج اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوئی حیران و ششدر رہ گئے اور کسی کو آپ کے مقابل جوابی عربی پر چہ لکھنے کی جرأت نہ ہوسکی۔اور سوائے شور وغل سے آپ کی تقریر میں رخنہ ڈالنے کے اور کچھ نہ کر سکے۔جس پر صدر جلسہ نے سخت نوٹس لیا اور نہایت رنجیدہ ہو کر اعلان کیا کہ اگر یہ علماء ان بے جا حرکات سے باز نہ آئے تو مناظرہ ختم کر دیں گے اور اپنی صدارت سے مستعفی ہو جائیں گے۔لیکن جب شرم دلانے کے با وجود ان لوگوں نے فتنہ انگیزی جاری رکھی تو انہوں نے جلسہ کو برخاست کر دیا۔اس پر مولوی محمد ابراہیم صاحب جو مخالف علماء کے پیچھے تھے ایک کرسی پر چڑھ کر نعرے بلند کرنے لگے۔ابھی نعرہ کے پورے الفاظ ان کی زبان سے نہ نکلے تھے کہ مولوی صاحب کی کرسی الٹ پڑی اور وہ بری طرح سے زمین پر گرے۔ان کی ٹانگیں اوپر تھیں اور سر نیچے اور پگڑی کہیں دور گری ہوئی تھی۔اور اس پر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جن لوگوں کے سامنے انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ قادیانی علماء عربی بالکل نہیں جانتے۔انہوں نے غصے کی حالت میں ان کو گھیر لیا اور مگوں اور لاتوں سے اُن کی وہ درگت بنائی کہ الامان والحفیظ !! ابھی مناظرہ اختتام کو نہیں پہنچا تھا کہ مجمع میں سے آٹھ گریجویٹ اور اچھے تعلیم یافتہ نو جوان حضرت مولانا کی طرف بڑھے اور بتایا کہ ان پر صداقت احمدیت منکشف ہو چکی ہے اور وہ اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں چنانچہ مناظرہ کے بعد وہ قیام گاہ پر مشترف احمدیت ہوئے۔اور ان کی