تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 288 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد 22 288 سال 1963ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے حضرت پیر سراج الحق صاحب کے قلم سے لکھا ہوا حسب ذیل مکتوب آپ کو موضع را جیکی میں یکم جنوری ۱۹۰۰ء کو موصول ہوا۔"بسم الله الرحمن الرحيم۔نحمده و نصلی علی رسوله الكريم السلام علیکم۔حضرت امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کا مکتوب عربی جس کی سطر سطر اور جملہ جملہ شوق و ذوق سے بھرا ہوا وجد دلانے والا تھا ملا حظہ فرمایا۔ارشاد فر مایا کہ گاہ گاہ اور بکثرت یہاں آنا چاہیئے۔خدا تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا 66 والسلام۔از قادیان - کتبہ سراج الحق یکم جنوری ۱۹۰۰ء۔“ اس کے بعد ۱۲ فروری ۱۹۰۰ء کو حضرت مولانا عبدالکریم صاحب کا رقم فرمودہ درج ذیل مراسلہ پہنچا:۔"بسم الله الرحمن الرحيم جناب مولوی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا منظوم خط کارڈ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں۔پہنچا۔حضرت نے پڑھا۔خدا تعالیٰ آپ کے اخلاص و موڈت میں ترقی دے۔مولوی صاحب ! اصل بات یہ ہے کہ یہاں بیٹھنے کے بغیر علم صحیح اور عقیدہ صحیحہ ہاتھ نہیں آسکتے۔حضرت کی سیرۃ پر میر ارسالہ الحکم کی خبروں میں شائع ہوا ہے۔امید ہے آپ نے پڑھ لیا ہوگا۔والسلام 766 عبدالکریم از قادیان ۱۲ فروری ۱۹۰۰ ء ) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کی یہ تحریک بہت مؤثر اور کارگر ثابت ہوئی اور آپ کو حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے کے کئی قیمتی مواقع میسر آئے اور حضرت امام الزمان سے براہ راست فیضیاب ہونے کی بار بار سعادت نصیب ہوئی۔چنانچہ آپ ۱۹۰۲ء کے سالانہ جلسہ میں شامل تھے اور خوش قسمتی سے مہمان خانہ کے جس کمرہ میں آپ ٹھہرے ہوئے تھے اس میں حضرت شہزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کا بل فروکش تھے ازاں بعد آپ کو مشہور سفر جہلم ( جنوری ۱۹۰۳ء) میں حضرت اقدس اور شہید مرحوم کی معیت کا شرف حاصل ہوا