تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 286
تاریخ احمدیت۔جلد 22 286 سال 1963ء مفسر قرآن اور اسلام کا جرنیل ہوں۔یہی بات ایک دفعہ ریاست کپورتھلہ میں ایک مجمع کے اندر کہی تھی۔میں نے مولوی ثناء اللہ سے کہا کہ آپ مولوی فاضل اور مفسر قرآن ہیں عربی میں اور اردو میں آپ نے تفسیر قرآن بھی لکھی ہے اور اسلام کے جرنیل ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور میری نسبت آپ نے تسلیم کیا ہے کہ میں حضرت مرزا صاحب کا رنگروٹ ہوں۔اس جگہ اس مجمع عظیم کے سامنے آپ حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تکذیب کر رہے ہیں کہ آپ کی صداقت کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔اب اسی مجمع عظیم کے سامنے اور اسی وقت میں تازہ نشان حضرت اقدس کی صداقت کا پیش کرتا ہوں جس کا آپ انکار نہ کر سکیں گے اور ساتھ ہی اس نشانِ صداقت کو اس مجمع کے حاضرین بھی دیکھ لیں گے اور وہ نشان یہ ہے کہ اسی وقت اور اسی مجمع کے سامنے کا غذ اور قلم دوات اور قرآن کریم غیر مترجم میرے مقابلہ میں لے کر بیٹھ جائیں اور قرآن کریم کے جس مقام سے آپ پسند کریں عربی میں تغیر لکھیں۔اگر اس وقت آپ عربی زبان میں تفسیر لکھنے سے عاجز اور قاصر ثابت ہوں اور تفسیر نہ لکھ سکیں اور میرے جیسا اُمی جو آپ کے بیان کردہ الفاظ کے مطابق صرف پرائمری پاس شدہ رنگروٹ ہے وہ فصیح عربی میں تفسیر لکھے اور حقائق و معارف سے مملوتفسیر لکھنے میں ان سب حاضرین کی آنکھوں کے سامنے کامیاب ہو جائے تو کیا یہ تازہ نشان حضرت مسیح موعودؓ کی صداقت کا ظاہر نہ ہوگا۔پس اگر ہمت ہے اور کسی قسم کی علمی لیاقت پر ناز ہے تو اس وقت علمی اعجاز پیش کرنے کیلئے بہترین موقعہ ہے اٹھو اور حضرت مسیح موعود کی صداقت کا تازہ نشان دیکھو اور اسی وقت اور اسی مجمع کے سامنے دیکھو۔مگر یاد رکھو کہ اس وقت میرے مقابلہ میں آپ کا قلم ٹوٹ جائے گا اور آپ کی دوات پھوٹ جائے گی۔اور آپ کا کاغذ پھٹ جائے گا۔اور آپ کا ہا تھ کٹ جائے گا یعنی آپ کو طاقت نہیں ہوگی کہ میرے مقابلہ میں عربی تفسیر کچھ بھی لکھ سکیں۔چنانچہ اس وقت میری اس تحدی کو تمام مجمع کے حاضرین سن کر دنگ رہ گئے اور حاضرین کا خیال تھا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری اس تحدی کا جواب تفسیر نویسی کیلئے ابھی تیار ہوکر دے گا اور ضرور دے گا۔لیکن لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اس مجمع عظیم جو ہزاروں کی تعداد میں تھا۔اس کے سامنے دیکھا کہ ثناء اللہ میں مقابلہ کی حس نہیں وہ ایک مردہ کی طرح بحالت سکوت صرف لاشئہ بے جان محسوس ہو رہا ہے۔اور مولوی فاضل کہلانے والا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک امی کے اعجازی علم کے سامنے بے جان اور ایک عربی تفسیر قرآن لکھنے کا مدعی اپنے دعوی تفسیر نویسی کو مسیح پاک کے روحانی شاگرد کے سامنے جو بظاہر سارے قرآن کی عبارت بھی کسی