تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 275
تاریخ احمدیت۔جلد 22 275 سال 1963ء حافظ صاحب کو ہمارے اس جائز مطالبہ کے پورا کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔“ یہ اشتہار اخبار الفضل نے بھی اپنی ۲۵ مارچ ۱۹۳۴ء کی اشاعت میں مکمل طور پر چھاپ دیا۔حافظ عنایت اللہ صاحب نے اشتہار کا جواب یہ دیا کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کی جائیداد کی فروخت سے یہ روپیہ ملنا چاہئیے۔میں مرزا حاکم بیگ صاحب کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔اس پر آپ نے لکھا کہ اس سلسلہ میں حافظ صاحب کی ایک چٹھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کے نام اخبار سنیاسی مورخه ۵ جولائی ۱۹۳۴ء کو شائع ہوئی ہے حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس حضرت مسیح موعود کی کوئی جائیداد نہیں۔جب آپ کو ایک ہزار روپیہ صرف حضرت اقدس کی جائیداد ہی سے لینا تھا تو پھر مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کرنے کا کیا فائدہ تھا۔پس یہ محض حیلہ تراشی اور بہانہ سازی ہے جو میرے طریق فیصلہ سے بچنے کے لئے کی گئی ہے پھر مرزا صاحب نے گجرات کی مسلم پبلک سے اپیل کی کہ وہ حافظ صاحب سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتی کہ وہ عظیم الشان حقیقت جس سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈووکیٹ اہلحدیث نا آشنا ر ہے جو مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی پر آشکارا نہ ہوئی اور جو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو نہ سوجھی وہ حافظ صاحب اپنے سینہ میں تھی نہ رکھیں۔اب حافظ صاحب نے پینترا بدل کر یہ جت کھڑی کی کہ ایک ہزار کے علاوہ پانچ ہزار روپیہ مزید مجھے دلایا جائے کیونکہ مؤلف عسل مصفی“ کے بیان کے مطابق مولوی نورالدین خلیفہ اول نے ثبوت پیش کرنے والے کو اپنی جیب خاص سے پانچ ہزار روپیہ دینے کا وعدہ بھی فرمایا تھا۔اس پر مرزا صاحب نے بذریعہ اشتہار اعلان فرمایا کہ میں پورے چھ ہزار روپے حافظ صاحب کی نذر کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ توفی کے معنی جبکہ خدا فاعل اور انسان مفعول ہو تو وہ بجر قبض روح کے کوئی اور معنی بتا دیں۔یہ ایک تحریری اقرار نامہ ہے جسے حافظ عنایت اللہ صاحب بذریعہ نالش مجھ سے لے سکتے ہیں نیز یہ کہ کر اتمام حجت کر دی کہ کیا مسلمانوں پر اب بھی واضح نہیں ہوا کہ مخالف علماء اب اس مسئلہ میں ایسے عاجز آچکے ہیں کہ پورے تینتالیس سال بعد اس چیلنج کو قبول کر کے ایک ہزار روپیہ طلب کرتے ہیں اور جب پیش کیا جاتا ہے تو مقابلہ کی تاب نہ لاکر حیلوں بہانوں سے راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔آپ نے اپنے اشتہار میں مزید لکھا کہ :۔مولوی صاحب اگر آپ کو واقعی احمدیوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے تو تبلیغ دین کے معاملہ میں مقابلہ کریں۔آپ یورپ میں ایک مشن کھولیں پھر ایک دو سال کے بعد اپنا کام ثالثوں کے سامنے