تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 274
تاریخ احمدیت۔جلد 22 274 سال 1963ء کے ابتدائی اخبارات الحکم اور بدر کے خریدار تھے۔۱۹۲۰ء میں آپ نے گجرات شہر کے محلہ گڑھی شاہدولہ صاحب میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔۱۹۳۴ء میں اہلحدیث عالم حافظ عنایت اللہ صاحب وزیر آبادی نے گجرات کے اخبار سنیاسی (مورخه ۱۵ فروری ۱۹۳۴ء) میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے نام ایک کھلی چٹھی شائع کی جس میں لفظ توفی کی نسبت حضرت مسیح موعود کے چیلنج کے سلسلہ میں آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہزار روپیہ مسلمہ منصفین کے پاس جمع کرانے کا مطالبہ کیا۔حضرت مرزا حاکم بیگ صاحب نے اس کھلی چٹھی کے جواب میں ایک حقیقت افروز اشتہار شائع کیا جس میں اعلان کیا کہ:۔112 ”جناب نواب صاحب خاں بہادر چوہدری افضل علی صاحب آنریری مجسٹریٹ درجہ اوّل گجرات یا حکیم محمد حسین صاحب ایم اے پرنسپل گورنمنٹ کالج گجرات یا رائے بہادر لالہ کدار ناتھ صاحب رئیس اعظم گجرات یا ڈاکٹر شیخ عبدالرشید صاحب جو کہ حافظ صاحب کے مقتدی ہیں یا حاجی شیخ عبدالعزیز صاحب اہلحدیث جو آپ کے محسن بھی ہیں ان میں سے جن پر حافظ صاحب کو اعتماد ہوان کے پاس میں ایک ہزار روپیہ نقد جمع کرادوں گا بشرطیکہ حافظ صاحب پہلے صاف طور پر اس امر کا اعلان کریں کہ وہ حسب مطالبہ مندرجہ ازالہ اوہام صفحہ ۹۱۸۔۹۱۹ توفی کے معنی قبض روح اور وفات کے علاوہ قبض روح مع الجسم زندہ اٹھا لینا دکھا ئیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی امر کے ساتھ اس انعامی اشتہار کو مشروط کیا ہے۔“ آپ نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ :۔”ہماری رائے میں اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے کم از کم پانچ پرچے ہونے چاہئیں پہلے پرچہ میں حافظ صاحب کو اُن تمام مثالوں کا ذکر کر دینا ضروری ہوگا جن کے معنی اُن کے زعم میں جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا ہوں اور آخری پرچہ میں کسی اور نئی مثال یا دلیل کے پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی اور مثالیں قرآن کریم سے یاکسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اشعار وقصائد نظم ونشر قدیم وجدید عرب سے پیش کرنی ہوں گی اور ہماری طرف سے اجازت ہوگی کہ حافظ صاحب جتنے دیگر مولویوں سے مدد لینا چاہیں لے لیں اور چونکہ یہ چیلنج انعامی ہے اس لئے ہمیں منصف کی شرط بھی منظور ہے اور اس کا فیصلہ بھی ہمیں مسلم ہوگا۔لیکن تفصیلی شرائط متعلقہ تقرر منصف اور تحریر پر چہ جات وغیرہ حافظ صاحب کی طرف سے مطلوبہ اعلان شائع ہو جانے کے بعد طے کی جائیں گی۔امید ہے کہ