تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 270
تاریخ احمدیت۔جلد 22 270 سال 1963ء بیٹیاں مکرمه سیده محموده پروین صاحبه زوجہ مکرم سید بشیر احمد شاہ صاحب، مکرمه سیده مسعوده پروین صاحبه زوجہ مکرم سید عبید اللہ شاہ صاحب، مکرمہ سیدہ نسیم اختر صاحبہ حال کینیڈا اہلیہ مکرم مبارک احمد خاں لودھی صاحب، مکرمه سیده شمیم اختر صاحبه حال ربوه زوجہ مکرم سیدا در لیس احمد شاہ صاحب - حضرت مہتاب بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ولادت: ۱۸۸۳ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء 105 104۔آپ حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت بابا جیون بٹ صاحب آف امرتسر کی صاحبزادی 106 تھیں۔(آپ پشمینہ بانی کا کام کرتے تھے رہائش قلعہ بھنگیاں امرتسر میں تھی۔بیعت ۱۸۹۴ء وفات ۱۸ستمبر ۱۹۳۰ء۔آپ موصی نہیں تھے مگر حضرت مصلح موعود کی اجازت خاص سے بہشتی مقبرہ 107 قادیان میں دفن کئے گئے (0) حضور علیہ السلام کی تحریک اور منظوری سے آپ کا عقد حضرت مولانا سرور شاہ صاحب سے ہوا۔نکاح حکیم الامت حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروی نے حضور کی موجودگی میں پڑھا اور خود ہی دوصد روپیہ مہر مقرر کیا۔حضرت اقدس علیہ السلام بھی دعا میں شریک ہوئے۔رخصتانہ کے موقعہ پر حضرت بابا جی نے کہلا بھیجا کہ ہم سب کچھ دیں گے مولوی سرور شاہ صاحب کچھ بھی ساتھ نہ لائیں۔ادھر مولوی صاحب کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب نے فرمایا کہ یہ معلوم ہونے پر کہ آپ رخصتانہ کے لئے امرتسر جا رہے ہیں دس روپے دیئے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے فرمایا کہ برات میں کسی کو ساتھ نہ لے جائیں آج تیرہ دوست مجھ سے مل کر امرتسر گئے ہیں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ وہ امرتسر اسٹیشن پر ٹھہریں اور آپ کی برات میں شامل ہوں چنانچہ یہ لوگ اسٹیشن پر موجود تھے اُن کے ہمراہ مولوی صاحب ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرتسری کے مکان پر پہنچے جہاں چند اور دوست بھی شامل ہوئے اور یہ برات حضرت بابا جی کے پاس پہنچی۔رخصتانہ کی تقریب ہوئی اور حضرت مولوی صاحب محترمہ مہتاب بیگم صاحبہ کو بیاہ کر قادیان لائے اور ازدواجی زندگی کا مبارک دور شروع ہوا۔108 ایک دفعہ ان کے دانت میں شدید درد تھی۔دواؤں سے فائدہ نہ ہوا۔حضرت اماں جان نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی حضور نے دارا مسیح میں بلوا کر ان کی موجودگی میں دو نوافل ادا کئے۔انہیں یوں محسوس ہوا کہ اس دانت کے نیچے سے قدرے دھویں والا شعلہ نکل کر آسمان کی طرف جا رہا