تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 268 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 268

تاریخ احمدیت۔جلد 22 268 سال 1963ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور دوسرے بزرگوں سے ذاتی مراسم تھے۔آپ انتہائی مخیر تھے۔ایک باشمر وسایہ دار درخت کی مانند اپنے سارے افراد خاندان حتی کہ معمولی شناسائی رکھنے والے احباب کے لئے بھی سکون اور تسلی کا ذریعہ تھے۔ہر ایک کے دکھ میں برابر کے شریک تھے اور ہر کسی کے غم میں تڑپ تڑپ کر بے قرار دعائیں کرتے تھے اور اس وقت تک اُن کے لئے بالالتزام دعاؤں میں منہمک رہتے جب تک اُن کا غم دور نہ ہو جاتا۔ہر روز صبح و شام گردونواح کے مریضوں کی عیادت فرماتے اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے تھے۔حافظہ غضب کا تھا زندگی کی تمام اہم باتیں اتنی تفصیل سے یاد تھیں کہ حیرانی ہوتی تھی۔حواس خمسہ تیز تھے۔اوزان وغیرہ کا اندازہ تقریباً سو فیصدی درست ہوتا۔قادیان میں جلسہ سالانہ کے لئے لکڑی کی شہتیر یاں ہر سال کرایہ پر لی جاتی تھیں۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر لکڑی کی کچھ گھیلیاں ہر سال خرید لی جائیں تو آہستہ آہستہ سارا سٹاک اپنا ہو جائے گا اور یوں سالانہ کرایہ کی بچت ہو جائے گی اور پھر چند سال میں ہی قیمت پوری ہو جائے گی۔حضور نے یہ تجویز بے حد پسند فرمائی اور گیلیاں خریدنے کا ارشاد فرمایا: حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے فرمایا:۔جولوگ اُن سے واقف نہیں ان کے نزدیک فرد واحد فوت ہوا ہے لیکن یہ جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ اس ایک شخص کے وفات پا جانے سے در حقیقت ہزار انسان فوت ہو گئے ہیں کہ وہ جملہ اوصاف حمیدہ کے مالک تھے۔102 محترمہ سیدہ منیرہ ظہور صاحبہ کا بیان ہے:۔”میرے سر حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب ۲۱ جولائی ۱۸۹۶ء کو ماچھیواڑ ضلع لدھیانہ میں جناب حکیم محمد عبد اللہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے جو ماچھیواڑہ کے ایک نامور حکیم اور اپنے علاقہ کے اولین احمدی تھے۔ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی اور میٹرک مشن ہائی سکول لدھیانہ سے کیا۔نہایت ذہین اور محنتی تھے۔ہر جماعت میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔وظیفہ بھی لیتے رہے۔قرآن مجید با ترجمہ با قاعدگی سے پڑھتے تھے۔چھوٹی عمر سے ہی مبشر خوا ہیں دیکھتے تھے۔نماز کے سختی