تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 266
تاریخ احمدیت۔جلد 22 266 سال 1963ء حضرت شیخ عبدالشکور صاحب آف حافظ آباد ولادت: انداز ۱۸۸۵۴ء بیعت :۱۹۰۲ ء وفات: ۱۹ جولائی ۱۹۶۳ء بعمر ۷۸ سال مرحوم بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور سلسلہ کے کاموں میں آخر عمر تک بڑھ چڑھ کر قربانی کرتے رہے۔96 حضرت عنایت بیگم صاحبہ بیوه مرز امحمد علی صاحب ولادت ۱۸۸۰ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۲۸ جولائی ۱۹۶۳ء۔آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود سے قرابت داری کا شرف حاصل تھا اور آپ کے والد مرزا غلام قادر صاحب آف لنگر وال ضلع گورداسپور کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے شوہر مرزا محمد علی صاحب ۱۹۰۳ء میں وفات پاگئے اور آپ عین جوانی میں بیوہ رہ گئیں۔خاندان کی مالی حالت اس وقت اچھی نہ تھی مگر اس کے باوجود آپ نے صبر اور استقلال اور تقویٰ اور عفت کے ساتھ اپنی بیوگی کا ساٹھ سالہ دور گزارا جو احمدی مستورات کے لئے ایک شاندار مثال ہے۔آپ نے اپنے دونوں یتیم بیٹوں (مرزا نذیر علی صاحب۔مرزا ضمیر علی صاحب) کی ہرممکن عمدہ تربیت کی اور انہیں مروجہ تعلیم دلائی۔مرحومہ نہایت ہی اعلیٰ اخلاق کی مالک تھیں اور اپنے سینہ میں ایک نڈر اور فیاض دل رکھتی تھیں۔صوم وصلوٰۃ اور پردہ کا پابند ہونے کے علاوہ ایمانی جرات کا ایک نمونہ تھیں۔آپ کے تعلقات حضرت تائی صاحبہ ( حرمت بی بی ) اہلیہ مرزا غلام قادر صاحب ( برادر اکبر حضرت مسیح موعود ) سے بھی تھے۔انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک بیعت نہیں کی تھی اس لئے مرحومہ جب کبھی اُن سے ملتیں وہ ان کے احمدی ہونے پر بہت جزبز ہوا کرتی تھیں۔مرحومہ ان کی زجر و توبیخ کو تو گوارا کر لیتی تھیں مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان مبارک کے خلاف کوئی بات سُننا آپ کے لئے نا قابل برداشت تھا۔حضرت تائی صاحبہ نے ۱۹۱۶ء میں بیعت کر لی۔تو آپ کو بے حد خوشی ہوئی کہ الحمد للہ حضرت مسیح موعود کا الہام ” تائی آئی۔ا نہایت شان سے پورا ہوا ہے۔مرحومہ کو جھوٹ اور غیبت سے قطعی نفرت تھی۔آپ اپنے ہمسایوں کی ہمدرد اور غمگسار تھیں اور محلہ کی تمام احمدی، غیر احمدی اور غیر مسلم مستورات پر مرحومہ کا خدا داد رعب تھا۔100 99 98