تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 265 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 265

تاریخ احمدیت۔جلد 22 265 سال 1963ء خوراک کا انتظام کیا اور چھ ماہ تک اپنے پاس رکھا۔اس کے بعد ان کے لواحقین ہندوستان سے ٹرک لے کر آ گئے تو اُن کے سپرد کر کے نہایت عزت و احترام سے روانہ کیا۔حضرت مصلح موعود نے ہجرت کے بعد رتن باغ میں قیام کے دوران ارشاد فرمایا کہ پاکستان کی مقامی جماعتیں اپنے مہاجر بھائیوں کو بطور امدا د ساتھ لے جائیں۔اس ارشاد پر آپ نے نہایت والہانہ طور پر لبیک کہا اور لاہور سے چھوٹے بڑے قریب ۱۱۴ احمدیوں کو گھر لائے اور بڑی ہمدردی سے اُن کے قیام و طعام کا انتظام فرمایا۔بعض ان میں سے جلد ہی اپنا بندو بست کر کے چلے گئے۔ان جانے والوں کو اپنی گرہ سے کرایہ دے کر روانہ کیا۔بعض احباب ۷، ۸ ماہ تک مقیم رہے جن کا مستقل انتظام د کر کے انہیں رخصت کیا اور بعض کو زمین دلا دی اور اس طرح کئی خاندانوں کو از سر نو آباد کر دیا۔۴۹۔۱۹۴۸ء میں آپ انسپکٹر وصایا مقرر کئے گئے۔حضرت مولوی عطا محمد صاحب سابق ہیڈ کلرک دفتر بہشتی مقبرہ قادیان و ربوہ تحریر فرماتے ہیں کہ تقسیم ملک کے بعد ۱۹۴۹ء میں یہ دفتر بہشتی مقبرہ لاہور میں بطور انسپکٹر کے کام کرنے لگے۔اپنے کام میں نہایت محنتی اور دیانت دار تھے۔اور ان کی نیکی اور تقویٰ کا اثر تھا کہ جس علاقہ میں یہ دورہ پر جاتے کامیاب رہتے اور کافی وصایا بھیجتے رہتے تھے۔بڑے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔دعاؤں کے بڑے عادی تھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور یقین و ایمان رکھتے ہوئے دعائیں کرتے رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ اُن کی دعاؤں کو سنتا تھا۔شاہ صاحب مرحوم انسپکٹر وصایا کی آسامی سے ساٹھ سالہ عمر ہونے پر ریٹائر ہو گئے تھے لیکن اُن کے حسن کارکردگی کی وجہ سے صدر انجمن احمدیہ نے دوبارہ ان کو اسی آسامی پر لگالیا تھا۔حضرت شاہ صاحب اس خدمت کے سلسلہ میں شاہ مسکین سے ربوہ جانے کے لئے ایک قریبی اڈہ سے بس پر سوار ہوئے۔جڑانوالہ سے ۱۳ میل دور بس بے قابو ہوگئی۔ڈرائیورا سے سنبھال نہ سکا اور وہ ایک درخت سے ٹکرا گئی۔آپ شدید زخمی ہو کر بے ہوشی کی حالت میں کچھ فاصلے پر جا گرے اس وقت زخموں سے خون بہہ رہا تھا اور کپڑے خون سے سرخ ہو چکے تھے۔آپ کو پہلے نزدیک کے ایک سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا پھر لاہور میوہسپتال میں لے جایا گیا۔ڈاکٹر صاحب نے داخل کرنے کے لئے نام لکھنا شروع کیا۔ابھی نام درج ہو رہا تھا کہ آپ نے پانی مانگا دو گھونٹ پانی پیا تھا کہ واپسی کا پیغام آ گیا اور آپ اپنے پیارے اور حقیقی رفیق اعلیٰ کے حضور پہنچ گئے اور یوں مجاہدانہ زندگی بسر کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور زندہ جاوید ہو گئے۔