تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلد 22 264 سال 1963ء جاتے اور خوب تالیاں بجاتے مسجد میں داخل ہوتے تو دھکے دے کر باہر نکال دیئے جاتے اور مسجد کا فرش پانی سے دھویا جاتا غرضیکہ آپ کا ہر طرح بائیکاٹ ہوا اور ایذا رسانی کی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔آپ نے اس دور ابتلا میں ہر تکلیف کو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے بڑی خوشی سے برداشت کیا اور اس صبر آزما زمانہ کو بڑی ہمت اور دعاؤں سے گزارا۔آپ حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں بار بار دعاؤں کے لئے خط لکھتے رہے۔آخر اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور حضور کی دعاؤں کی برکت سے آپ کو ہر میدان میں نمایاں کامیابی ہوئی۔جلسوں کا سلسلہ جاری ہونے کے بعد تقریباً بیس سال تک بستی شاہ مسکین مناظروں کی آماجگاہ بنی رہی۔سلسلہ کے بزرگ اور چوٹی کے علماء اور مقررین نے یہاں آکر پیغام حق پہنچایا اور احمدیت کی آواز علاقہ کے کونے کونے میں گونجنے لگی۔ان جلسوں اور مناظروں کے اخراجات حضرت شاہ صاحب خود برداشت کرتے تھے اور تبلیغ حق کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔آپ کی نیکی کا اثر شاہ مسکین کے ماحول میں بہت تھا اور یہی وجہ ہے کہ بعض سرکاری مقدمات اور گھریلو جھگڑوں میں آپ سے ثالثی کے فرائض انجام دینے کی درخواست کی جاتی اور آپ عدل وانصاف سے فیصلہ صادر کرتے تھے۔ابتداء میں آپ اور آپ کے مخلص بھائی اپنا چندہ پانچ چھ میل کے فاصلہ پر واقع جماعت احمدیہ بھینی میں ادا کیا کرتے تھے۔لیکن ۱۹۲۳ء میں شاہ مسکین میں مستقل جماعت قائم ہوگئی جس کا سیکرٹری آپ کو مقرر کیا گیا۔آپ نے یہ خدمت کمال جانفشانی سے ادا کی۔۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کا آغاز ہوا تو آپ اپنے بھائیوں سمیت اس کے مالی جہاد میں شامل ہو گئے۔۱۹۳۹ء میں آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک ماہ تبلیغ کے لئے وقف کیا اور مرکز کے ماتحت ضلع گورداسپور میں خوش اسلوبی سے مجوزہ فرائض انجام دئے اور مرکز سے سند خوشنودی حاصل کی۔۱۹۴۲ء میں حضور نے وقف کی خصوصی تحریک کی جس پر آپ نے اپنے اکلوتے بیٹے سیدا مین شاہ صاحب کو حضور کی خدمت میں پیش کیا۔سید امین شاہ صاحب جو نیکی اور تقویٰ میں اپنے باپ کے وارث تھے۔ساری عمر نہایت اخلاص و ایثار کے ساتھ معلّم اور دیہاتی مبلغ کے فرائض انجام دیتے رہے اور امئی ۱۹۶۸ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔تقسیم ہند ۱۹۴۷ء کے موقعہ پر آپ نے اپنے گاؤں کے ایک غیر مسلم مرد اور تین غیر مسلم مستورات کو اپنے ہاں پناہ دی ، ہر طرح اُن کی حفاظت کی اُن کا بہت سا سامان واپس دلایا ان کی