تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 263
تاریخ احمدیت۔جلد 22 263 سال 1963ء جاوید سابق قائد خدام الاحمدیہ ضلع لاہور حال نائب ناظر ضیافت ربوہ اور ملک محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ گوجرانوالہ آپ ہی کے صاحبزادے ہیں ) (۳) محترمه مبارکه بیگم صاحبه مرحومه (۴) محترمه رشیدہ بیگم صاحبه (۵) محترمه فرخنده بیگم صاحبہ مرحومه (۶) ملک حبیب حسن صاحب مرحوم (۷) محترمہ سعادت بیگم صاحبه مرحومه (۸) محترمه عزیز بیگم صاحبه (۹) محترمہ مریم بیگم صاحبہ - حضرت سید ولایت شاہ صاحب انسپکٹر وصایا ولادت: ۱۸۹۲ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۱۶ جولائی ۱۹۶۳ء۔90۔شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ میں ایک مختصر سی بستی ہے جہاں سادات کا ایک قدیم خاندان آباد چلا آ رہا ہے۔اس خاندان کے مورث اعلیٰ حضرت سید عبداللہ شاہ صاحب بخارا سے ہندوستان میں آئے تھے۔یہ معلوم نہیں کہ سلطان محمود غزنوی کے ساتھ یا اس سے پہلے فروکش ہوئے پھر دہلی چلے گئے رستہ میں اسی خاندان کے ایک بزرگ کا مزار ہے جن کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے شیر کے ساتھ مقابلہ کر کے اُسے مار دیا تھا۔پھر یہیں اس بزرگ نے وفات پائی۔حضرت سید عبداللہ شاہ صاحب دہلی سےشہنشاہ جہانگیر کے زمانہ میں لا ہور تشریف لائے۔شاہ وقت نے ان کے گزارہ کے لئے لاہور میں کچھ زمین دی یہ خاندان بعد ازاں شاہ مسکین میں آباد ہوا۔جہاں خاندان کے بزرگوں کے مزار پر ہر سال ایک بھاری میلہ ہوا کرتا تھا۔جس میں ہر قسم کی مشرکانہ رسوم اور بدعات داخل ہو گئی تھیں اور مروجہ عرسوں کی طرح قوالی کا بازار گرم ہوتا۔حضرت سید ولایت شاہ صاحب اپنے بزرگوں کے سجادہ نشین تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے بھائیوں کو احمدیت کی نعمت سے نوازا اور وہ دل و جان سے حضرت مسیح موعود کے عاشق صادق بن گئے تاہم ۱۹۱۷ ء تک انہوں نے بدستور یہ میلہ جاری رکھا ازاں بعد آپ کو یہ فکر لاحق ہوا کہ ہم قبول احمدیت کے باوجود میلے کئے جارہے ہیں۔آخر ہمارے ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔چنانچہ آپ نے ۱۹۱۸ء سے میلہ کی تاریخوں میں تبلیغی جلسہ شروع کر دیا اور سب سے پہلے حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کو قادیان دارالامان سے منگوا کر تقریر کروائی اور پھر عمر بھر ہر سال با قاعدہ جلسے کراتے رہے۔حضرت حافظ صاحب کی تقریر کا کرانا تھا کہ اردگردد یہات میں ایک زبر دست جوش پیدا ہو گیا اور آپ کی شدید مخالفت شروع ہو گئی علاقہ کے ایک بااثر عالم نے مکمل بائیکاٹ کا فتویٰ دیا۔اس کے اثر سے سب دکانداروں نے سودا سلف دینا بند کر دیا۔آپ کسی گاؤں میں جاتے تو بچے پیچھے لگ