تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلد 22 262 سال 1963ء ملازمت کے دوران ہی آپ نے قادیان میں اپنا مکان بنوالیا اور پینشن کے بعد ہجرت کر کے قادیان آگئے اور اپنی خدمات آنریری طور پر نور ہسپتال میں پیش کر دیں۔اس کے ساتھ ہی آپ ڈسٹرکٹ سولجر بورڈ کے ممبر بن گئے اور اپنے اثر و رسوخ سے جماعت کے متعدد افراد اور بیوگان کے وظائف و پنشن مقرر کروائیں۔آپ نے تقسیم ملک تک یہ ذمہ داری نہایت ایمانداری سے نبھائی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا بیان ہے کہ:۔86 دو تقسیم ملک سے قبل جب آپ قادیان میں پنشن لے کر آئے تو نہایت محبت سے غرباء کا علاج 87 166 کرتے تھے اور ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔بہت مرنجان مرنج بزرگ تھے۔مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی اے واقف زندگی نے آپ کی وفات پر لکھا:۔محترم ڈاکٹر صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔آپ نہایت خلیق اور ملنسار تھے۔ہمدرد اور سلسلہ کے لئے قربانی کرنے والے وجود تھے۔خاکسار کو سن ۴۵ ۱۹۴۴ء میں سلسلہ کے بعض کاموں کے سلسلہ میں محترم ڈاکٹر صاحب مرحوم کے ساتھ نشست و برخاست کا موقعہ ملا۔باوجوداس کے کہ آپ فوجی ملازمت سے سبکدوش ہو کر آئے تھے۔آپ میں تکبر و نخوت یا نا جائز تفاخر و تکلف کا شائبہ تک نہ تھا۔آپ کی ہر حرکت سے مومنانہ انکسار اور خدمت گذاری کا جذ بہ نمایاں ہوتا تھا۔سلسلہ حقہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دلی عقیدت اور اخلاص رکھتے تھے۔باوجود پیرانہ سالی اور ضعف جسمانی کے آپ سلسلہ کی خدمت کے لئے ہر وقت مستعد رہتے تھے اور ایسی خدمات بجالاتے ہوئے آپ میں انشراح صدر کی کیفیت پائی جاتی تھی چنانچہ کسی جماعتی کام کے لئے جب بھی آپ کو دفتر میں بلایا گیا۔آپ آنریری خدمت بجالانے کے لئے فوراً پہنچ جاتے اور ایسے مواقع حاصل ہونے پر خوشی محسوس کرتے۔آپ ۱۵ مارچ ۱۹۲۹ء کو ۱/۱۰ کی وصیت کر کے نظام الوصیت سے وابستہ ہوئے اور کچھ عرصہ اس میں اضافہ کر کے ۱/۶ کی وصیت کر دی اور اسے اخیر وقت تک کمال جوانمردی سے نبھایا۔چندوں میں باقاعدگی آپ کا خاص معمول تھا۔سلسلہ کی ہر تحریک میں حصہ لیتے اور پھر پورے اہتمام سے اس کا حساب رکھتے تھے۔الغرض سلسلہ کے فدائی اور تبلیغ اور مالی قربانی میں قابل قدرنمونہ تھے۔آپ نے اپنے پیچھے ۱۱۵ بچے پوتے پوتیاں نواسے اور نواسیاں یادگار چھوڑیں۔اولاد (۱) محترمہ اقبال بیگم صاحبہ (۲) ملک مظفر احمد صاحب مرحوم ( ملک منور احمد صاحب