تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 258
تاریخ احمدیت۔جلد 22 258 سال 1963ء موعود علیہ السلام کے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ والہانہ محبت تھی۔غرباء پروری کے دلدادہ تھے مجھے غالباً ۴۵ - ۱۹۴۴ء میں اپنے لڑکے حفیظ احمد کی تعلیم کے لئے قادیان دارالامان میں رہائش رکھنے کی ضرورت پیش آئی۔میں بوجہ تنگی کے نہ تو ہوسٹل کا خرچ برداشت کر سکتا تھا۔نہ ہی کسی ہوٹل کا خرچ اٹھا سکتا تھا۔میں نے برسبیل تذکرہ آپ سے ذکر کیا کہ میں اپنے لڑکے کو قادیان میں تعلیم دلوانا چاہتا ہوں مگر میں خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔اگر آپ مہربانی فرما ئیں تو آپ کو ہفتہ عشرہ کے بعد فیض اللہ چک سے آنا دال وغیرہ دے جایا کروں گا۔آپ اس کا اپنے گھر میں انتظام کر دیں۔آپ نے نہایت ہی شفقت سے فرمایا کہ اگر آٹا دال لانا ہے تو پھر کسی اور جگہ انتظام کرلیں۔میرے دستر خوان پر تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چوبیس افراد کھانا کھاتے ہیں۔اگر آپ کا لڑکا بھی کھانا کھالیا کرے گا تو میرے خرچ میں کونسی زیادتی ہو جائے گی۔پھر فرمانے لگے آپ اگر فیس بھی ادا نہ کر سکیں تو وہ بھی میں ادا کر دیا کروں گا۔آپ کی بڑی بہو میرے بچے کے ساتھ اپنے بچوں جیسی محبت کرتی تھیں اور ہر لحاظ سے بچے کے ساتھ دلداری کرتی تھیں۔میرا لڑکا ۱۹۴۷ء تک قادیان میں ان کے گھر رہ کر تعلیم حاصل کرتا رہا۔میرا لڑکا بیان کرتا ہے ایک دن بھی ایسا نہیں آیا کہ مجھے محترمہ آپا جان نے کبھی ناراضگی کا اظہار فرمایا ہو یا مجھے کبھی بچوں سے الگ رکھا ہو۔جو چیز اپنے بچوں میں تقسیم کرتیں اس میں مجھے برابر شریک کرتیں۔۱۹۴۷ء میں فسادات ہوئے تو میرا لڑکا حفیظ احمد چند روز پہلے فیض اللہ چک چلا گیا۔بچے کے جانے کے بعد فیض اللہ چک میں فساد شروع ہو گیا۔بھائی جان اور آپ کا خاندان بہت پریشان رہا کہ بچے کو فیض اللہ چک کیوں بھیج دیا۔ہم لوگ فیض اللہ چک سے قادیان اس حالت میں آئے کہ نہ تو ہمارے پاس کپڑے تھے نہ نقدی تھی آپ نے نہایت ہی شفقت سے میرے اہل وعیال کو کپڑے بھی دیئے بستر بھی دئے اور نقد بھی مدد کی۔ایک اور واقعہ غالباً ۱۹۴۶ ء کا ہے کہ ایک نومسلم ہندو گھرانے کا آپ کی دکان میں رہا کرتا تھا۔ایک دن آپ کا لڑکا عبدالغفور نومسلم سے کسی بات پر جھگڑ پڑا۔لڑکے کی زبان سے کوئی سخت لفظ نکل پڑا۔جس پر محترم بھائی جی نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر دکان سے نکال دیا اور اس نو مسلم سے بہت ہمدردی اور دلجوئی کی اور فرمانے لگے اس بیچارے نے مذہب چھوڑا ، بہن بھائی چھوڑے، ہمارے پاس آیا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے ساتھ ہمدردی کریں۔سبحان اللہ۔