تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 248 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 248

تاریخ احمدیت۔جلد 22 248 سال 1963ء آپ کے ایک داماد مکرم ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب امیر المجاہدین تھے۔جنہوں نے اپنی تالیف ”میری کہانی میں بھی آپ کے حالات درج فرمائے ہیں۔( حضرت منشی صاحب کے ایک نواسے مکرم الیاس احمد اسلم صاحب نے مسجد النور ماڈل ٹاؤن لاہور میں ۲۸ مئی ۲۰۱۰ ء کو شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔) حضرت حکیم قریشی شیخ محمد صاحب ولادت: ۱۸۸۷ء 59 بیعت: ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء ( زیارت اس سے قبل ) 60 وفات : ۱۴ مارچ ۱۹۶۳ء 1 ) حضرت قریشی صاحب آف دہرانوالہ داروغیاں ضلع گورداسپور حضرت مسیح موعود کی صداقت کے ایک عظیم الشان نشان کے گواہ تھے جس کی تفصیل میں آپ فرماتے ہیں:۔موضع طالب پور پنڈوری میں میرا ایک رشتہ دار عبد القادر نامی تھا جو میرا استاد بھی تھا۔میں جب کبھی وہاں جایا کرتا تھا تو اس کے ساتھ سلسلہ کے متعلق اور حضرت صاحب کے متعلق گفتگو ہوا کرتی تھی کیونکہ میں نے بیعت کر لی ہوئی تھی اور میں اُن دنوں قادیان میں رہا کرتا تھا اور حضرت خلیفہ اول کے مطب میں پڑھا کرتا تھا اور طریق علاج سیکھا کرتا تھا۔ایک دفعہ میرا ایک اور رشتہ دار جس کا نام فضل احمد تھا وہ بھی غیر احمدی تھا موضع طالب پور میں گیا تو اس کے ہاتھ عبد القادر مذکور نے ایک اپنی لکھی ہوئی تحریر جو کچھ نثر اور کچھ نظم اور نہایت بخش اور گندی گالیوں سے بھری ہوئی تھی میرے پاس بھیجی اور زبانی پیغام بھیجا کہ اس کا جواب دیوئیں۔میں نے وہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو دکھلائی اور انہوں نے حضور علیہ السلام کے حضور پہنچا دی۔حضور نے دیکھ کر فرمایا جو متلاشی حق ہیں ان کے اعتراضات کا جواب تو ہماری کتابوں میں بارہا دیا گیا ہے مگر اس گندہ دہنی اور خواہشات کا کیا جواب ہوسکتا ہے اب خدا تعالیٰ ہی انصاف کرے گا۔چنانچہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد وہ طاعون سے ہلاک ہو گیا۔نہ وہ اکیلا بلکہ ایک اس کا داماد بھی تھوڑے دنوں بعد طاعون سے ہلاک ہو گیا۔حضرت اقدس ان دنوں حقیقۃ الوحی لکھ رہے تھے جس میں آپ نے ایسے لوگوں کے واقعات لکھے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی طرح سے مباہلہ کیا چنانچہ میں نے ماسٹر عبدالرحمن صاحب کے ذریعہ حضرت صاحب کو اس کی اطلاع کی کہ حضور وہ شخص عبدالقادر نامی بھی معہ اپنے رشتہ داروں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا ہے تو حضور نے مجھ کو بلایا۔میں اور میرا ایک