تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 242
تاریخ احمدیت۔جلد 22 242 سال 1963ء آپ وفات سے چند سال پہلے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور اپنے آبائی وطن مانگٹ اونچے میں وفات پائی اور اب بہشتی مقبرہ ربوہ کی خاک میں ابدی نیند سور ہے ہیں۔اولاد: (مراد بی بی صاحبہ کے بطن سے ) (۱) جمال دین صاحب (۲) عرفان احمد صاحب (۳) بشارت احمد صاحب (۴) سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد اسماعیل اسلم صاحب واقف زندگی۔آپ کے ایک پوتے رضوان احمد شاہد صاحب ابن عرفان احمد صاحب مبلغ آئیوری کوسٹ اور ایک نواسے طاہر احمد مبشر صاحب ابن مولوی محمد اسماعیل اسلم صاحب مربی سلسلہ ہیں ) حضرت منشی دیانت خان صاحب نادون ضلع کانگڑہ ولادت ۱۸۸۰ء بیعت و زیارت : ۱۸۹۶ ء وفات : ۳۱ جنوری ۱۹۶۳ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ صحابہ کبار میں نادون ضلع کانگڑہ کے دو بزرگ حضرت منشی امانت خان صاحب (نمبر ۱۷۵) اور حضرت منشی شہامت خان صاحب ( نمبر ۲۷۹) تھے۔حضرت منشی دیانت خان صاحب ان کے بھائی تھے۔آپ اپنے خود نوشت حالات میں تحریر فرماتے ہیں۔سال ۱۸۸۰ء کا ذکر ہے۔قصبہ نادون میں ایک فقیر سائیں قلندر شاہ رہتا تھا۔ایک دفعہ وہ پنجاب کی طرف سے سیر کر کے گیا تو میرے بھائی منشی شہامت خان صاحب کو کہا کہ خاں میاں امام مہدی پیدا ہو گئے ہیں مگر ابھی ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔مجاہدہ میں ہیں افسوس میں اُن کے دعوئی تک (دنیا) میں نہیں رہوں گا۔میرے بھائی نے پوچھا وہ کہاں پر ہیں؟ تو اُس نے جواب دیا کہ بٹالہ کے پاس قادیں ایک بستی ہے اس جگہ پر ہیں۔“ نیز فرماتے ہیں:۔66 ’ سال ۱۸۹۶ء میں کمترین۔۔۔قادیان پہنچا۔ایک بزرگ سے جن کا نام میں نہیں جانتا (اس وقت میری عمر ۶ اسال کی تھی ) ذکر کیا کہ میں حضرت امام مہدی کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے حضور کے حضور پیش کر دیا۔حضور نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔جب میں نے نادون کا نام لیا تو حضور نے برادران کا حال پوچھا۔جو پوچھتے تھے عرض کر دیتا تھا حضور نے فرمایا چند روز ابھی اس جگہ رہو کمترین نے کہا میری والدہ بہت ضعیف ہے۔زیادہ دن ٹھہر نہیں سکتا۔گھر سے اجازت لے کر نہیں آیا ہوں۔اس واسطے جلدی چلا جانا ہے بیعت کر کے دوسرے روز واپس چلا گیا۔افسوس حضور کی صحبت میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا موقعہ نہ ملا۔