تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 240
تاریخ احمدیت۔جلد 22 240 سال 1963ء اور منشی اروڑ ا صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب۔اگر میں ان تین بزرگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گردگھومنے والے چاند اور ستارے کہوں تو ہر گز بے جانہ ہوگا۔یہ وہی بزرگ جماعت ہے جن کے اخلاص کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا تھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ جس طرح یہ دوست دنیا میں میرے ساتھ رہے۔اسی طرح آخرت میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اور ان کی اولادوں کو اپنے خاص فضلوں اور رحمتوں سے نوازے۔آمین والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۱۲ جنوری ۶۱۹۶۳ 39 اولاد: محترمہ امتہ اللہ بیگم صاحبہ محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ، خان عبدالحمید خاں صاحب، محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ محترمہ زبیدہ بیگم صاحبہ - 1 40 آپ کی ایک نواسی مکرمہ قیصرہ بیگم صاحبہ (مرحومہ) مکرم صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب ابن حضرت مصلح موعود کی اہلیہ تھیں۔حضرت صوفی محمد فضل الہی صاحب ولادت ۱۸۸۶ء بیعت : ۱۹۰۲ء وفات : ۴ / جنوری ۱۹۶۳ء 41 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت صوفی کرم الہی صاحب کے صاحبزادے اور حضرت مصلح موعود کے کلاس فیلو تھے۔حضرت مولانا شیر علی صاحب، حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب، حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب جیسے بزرگ اور شفیق اساتذہ سے تلمذ کا شرف حاصل تھا۔بسلسلہ ملازمت شملہ، میرٹھ اور آگرہ میں رہے اور ہر جگہ سلسلہ کی خدمت میں مصروف رہے۔آگرہ میں کچھ عرصہ سیکرٹری تعلیم وتحریک جدید ر ہے۔پھر سیکرٹری مال مقرر ہوئے۔درس قرآن دینے کا شغف بھی تھا۔چہرہ پرکشش اور پر نور تھا۔تہجد گزار اور صاحب کشف و الہام تھے۔غیر احمدی بلکہ ہندو تک آپ کی بزرگی کے قائل تھے۔جب آپ کو آگرہ میں ایک مکان چھوڑنا پڑا تو محلہ والوں کو بہت فکر دامنگیر ہوا اور فیصلہ کیا کہ آپ کو اس محلہ سے جانے نہ دیا جائے اور پھر خود ہی ایک موزوں مکان کا بندو بست اسی محلہ میں کر دیا۔حالانکہ آپ کا خاندان اس محلہ میں اکیلا احمدی تھا اور محلہ میں کئی لوگ احمدیت کے مخالف بھی تھے مگر سبھی آپ کی پارسائی اور تقوی شعاری کے معترف تھے۔کئی لوگ پہلی ملاقات میں ہی آپ کے گرویدہ ہو جاتے اور کہہ اٹھتے کہ آپ بزرگ اور ولی اللہ ہیں۔