تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 239
تاریخ احمدیت۔جلد 22 239 سال 1963ء کے نام آپ کے اخلاص و محبت سے لبریز بعض خطوط شعبہ تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں) آپ کا ایک اور نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ پابندی اور تعہد کے ساتھ ہر نماز مسجد میں ادا کرتے اور یہی آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی غذا تھی۔اور بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود اس میں فرق نہیں آنے دیا۔سلسلہ کے بزرگوں اور مرکزی کارکنوں کی مہمان نوازی میں بے حد بشاشت اور سرور محسوس کرتے اور ذاتی توجہ سے اس کا اہتمام فرماتے۔حضرت خاں صاحب لمبا عرصہ تک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔آپ نے اپنے فرائض نہایت عمدگی سے ادا کئے اور ملازمت کا طویل عرصہ نیک نامی سے گذارا۔آپ کی دیانت ، امانت اور عدل و انصاف کا کپورتھلہ میں عام چرچا تھا۔ریٹائر ہونے کے بعد بھی لباس میں وضع داری کو قائم رکھا۔موسم گرما میں اکثر کوٹ اور پگڑی وغیرہ زیب تن کر کے مسجد میں آتے خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدِ (الاعراف: ۳۲) کے ارشاد خداوندی پر عمل پیرا رہتے تھے۔آپ کے اندر وقار اور سکینت کا یہ رنگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کے مبارک طریق کی والہانہ اطاعت وفرمانبرداری سے پیدا ہوا تھا۔۱۹۴۷ء کے قیامت خیز دور میں آپ کپورتھلہ سے ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔اور تا دم واپسیں ماڈل ٹاؤن سی بلاک میں قیام پذیر رہے۔جہاں حضرت میاں محمد یوسف صاحب ( نائب امیر جماعت لاہور ) اور حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر جیسے بزرگ اصحاب بھی رہائش رکھتے تھے۔قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر قلم فرمایا :۔خان عبدالمجید خاں صاحب موصوف نہ صرف خود ایک نہایت اور سادہ مزاج مخلص صحابی تھے بلکہ ان کے والد بزرگوار خان محمد خان صاحب مرحوم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم ترین صحابیوں میں سے تھے اور اول درجہ کے مخلص اور فدائی بزرگ تھے جن کے وجود سے کسی زمانہ میں کپورتھلہ کی جماعت کو خاص زینت حاصل تھی۔کپورتھلہ کی جماعت وہ ممتاز جماعت تھی جسے بڑا امتیاز حاصل تھا اور وہ ایسے افراد پر مشتمل تھی جو اپنے اخلاص اور فدائیت اور نیکی میں خاص شان رکھتی تھی۔اس جماعت کے تین بزرگ تو خصوصیت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب اور اپنے اخلاص اور محبت میں غیر معمولی طور پر ممتاز تھے یعنی خان محمد خان صاحب ( والد خان عبدالمجید خاں صاحب مرحوم )