تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 238
تاریخ احمدیت۔جلد 22 238 سال 1963ء اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو لمبی عمر ، صحت اور علم اور روحانیات میں ترقی دے اور اعمال صالحہ ( تبلیغ احمدیت) کی کامیاب توفیق عطا کرے اور احمد یہ مشن جہاں آپ ہوں مقبول ہوتا جائے اور آپ سے لوگ حق پاویں۔والسلام۔قاضی محمد یوسف احمدی، ہوتی ضلع مردان نزیل مانسہرہ ہزار ۳ راگست ۱۹۶۰ء اس نوٹ کے ایک ایک لفظ سے آپ کی اشاعت احمدیت کی تڑپ آشکارا ہوتی ہے۔اور آپ کی زندگی کے جو مقاصد تھے۔میرے لئے انہیں کے لئے دعا کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ان الفاظ کو قبولیت بخشے مختصر یہ کہ حضرت قاضی صاحب کو قریب سے دیکھنے والے کو اصحابی کالنجوم 66 کا مفہوم صحیح طور پر سمجھ میں آجا تا تھا۔اولاد حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کے غیر مطبوعہ قلمی نوٹ (مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۵۹ء) صفحہ ۱۵۔۷ اسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دو شادیاں کیں۔دونوں سے دس دس یعنی کل ۲۰ بچے پیدا ہوئے۔پہلی بیوی سے قاضی محمد احمد صاحب، قاضی محمود احمد صاحب اور ایک دختر محترمہ آمنہ بیگم اور دوسری بیوی سے قاضی بشیر احمد صاحب، قاضی مسعود احمد صاحب، محترمہ بی بی عائشہ محترمہ رضیہ بیگم صاحبہ محترمہ زبیدہ ناہید صاحبہ محترمہ قدسیہ نسرین صاحبہ وغیرہ کے نام درج فرمائے ہیں۔حضرت خان عبدالمجید خان صاحب کپورتھلوی ولادت ۱۸۸۵ء بیعت : ۸ مارچ ۱۸۹۲ء وفات : ۴ جنوری ۱۹۶۳ء 36 آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق حضرت منشی محمد خان صاحب کپور تھلوی کے صاحبزادہ تھے۔اور اُن خوش قسمت اصحاب میں سے تھے جو سالانہ جلسہ قادیان ۱۸۹۲ء میں شامل ہوئے۔عرصہ تک جماعت احمد یہ کپورتھلہ کے پریذیڈنٹ رہے۔آپ سلسلہ احمدیہ کے سچے فدائی اور بہت عابد وزاہد اور دعا گو بزرگ تھے۔قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرنے اور ہمیشہ عمل پیرا رہنے میں کوشاں رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے متعدد مواقع پر آپ کو بشارات سے نوازا اور ایسے غیر معمولی طور پر آپ کو کا میاب فرمایا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذاتی تعلق اور رابطہ کا شرف رکھتے تھے اور حضور کی خدمت میں دعائیہ خطوط با قاعدگی سے ارسال کرتے اور اسے ایک دینی اور روحانی فریضہ سمجھتے تھے۔(حضرت اقدس علیہ السلام 37-