تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 237 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 237

تاریخ احمدیت۔جلد 22 237 سال 1963ء غیر معمولی طور پر غیور واقعہ ہوئے تھے۔جن لوگوں نے خلافت ثانیہ کے آغاز پر حضور علیہ السلام کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کی۔وہ انہیں کسی رعایت کے مستحق نہیں سمجھتے تھے۔اپنے حلقہ امارت میں اپنے تقوی، روحانیت علم ، وجاہت اور جوش تبلیغ کے سب ممتاز اور منفرد مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ سالہا سال تک صوبائی امیر کی حیثیت سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے نائب کے طور پر اس علاقہ میں نمایاں رہے۔آپ ایک باعمل ” مرد مجاہد تھے جن کی زندگی تربیت جماعت اور تبلیغ دین کے لئے وقف تھی۔سابق صوبہ سرحد میں نصف صدی تک ایک نڈر ، بہادر اور راست گو مبلغ بن کر شہر شہر اور قریہ بہ قریہ پھر کر خدا کی آواز اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسيح‘ناتے رہے۔یہاں تک کہ پشاور کے بازار میں آپ پر پستول سے قاتلانہ حملہ بھی ہوا اور معجزانہ طور پر آپ سلامت رہے بلکہ خود کود کر حملہ آور کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔جب جماعتوں میں دورہ کرتے تو سب کے لئے دعا کرتے ہر شخص کے دکھ درد کو سنتے اور ہمدردی اور محبت کا اظہار کرتے۔ہر جگہ احمدیہ مساجد کی تعمیر کی تلقین کرتے اور بار بار توجہ دلاتے۔میں نے بالا کوٹ میں حضرت سید احمد شہید بریلوی کے مزار پر آپ کا لگوایا ہوا سنگ مرمر کا کتبہ دیکھا جس پر نیچے یہ حروف تھے۔” قاضی محمد یوسف احمدی اپنے عرصہ ملازمت میں انگریز افسروں کو بھی اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔عیسائیوں سے بھی مباحثات کرتے رہے۔اپنی تقریر وتحریر میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا ذکر حضرت احمد کے الفاظ سے کیا کرتے تھے۔بالعموم قال اللہ اور قال الرسول ہی گفتگو کا موضوع رہتا تھا۔تکلفات سے بالا تھے۔مرکز کا نمائندہ ہونے کے سبب میرے ساتھ غیر معمولی محبت رکھتے تھے۔علاقہ کے مخصوص ماحول اور طبائع کے پیش نظر اپنے تجربہ کی بناء پر ہدایات سے نوازتے۔تا زندگی میرے لئے دعا فرماتے رہے۔مانسہرہ میں قیام کے دوران میری رہائش گاہ پر بھی تشریف لاتے رہے۔۱۹۵۹ء میں جب حضرت اقدس مصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ موسم گرما گزارنے کے لئے ایبٹ آباد تشریف لائے تو حضور نے آپ کو یاد فرمایا۔آپ باوجود علالت کے حاضر ہو کر شرف یاب ہوئے۔ایک دفعہ پھر مانسہرہ تربیتی دورہ پر تشریف لائے تو کئی روز قیام فرمایا۔ساتھ مربی سلسلہ مولانا چراغ الدین صاحب فاضل بھی تھے ان دنوں خصوصاً حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے مقام پر تقاریر اور نجی گفتگو فرماتے رہے۔ایک دن میری رہائش گاہ پر تشریف لائے تو میں نے اپنی ذاتی ڈائری آپ کے سامنے رکھ دی اس کے صفحہ نمبر ۱۰۳ پر اپنے ہاتھ سے یہ نوٹ لکھ دیا کہ:۔