تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 235
تاریخ احمدیت۔جلد 22 235 سال 1963ء مجھے قاضی صاحب سے اپریل ۱۹۲۴ ء سے تعارف ہے جبکہ بوجہ ملازمت میں لاہور سے تبدیل ہو کر لنڈی کو تل اور پھر پشاور تعینات ہوا۔قاضی صاحب مہمان نوازی اور سخاوت میں کمال درجہ کے انسان تھے۔اپنے مہمانوں سے بے حد محبت کرتے اور مجھے بھی مہمانوں کے ہمراہ گھر پر لے جاتے۔بہت خاطر تواضع کرتے۔مہمانوں سے بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے ان کی خیریت پوچھتے احمدیوں اور غیر احمدیوں کے حالات دریافت فرماتے۔کسی صاحب کو کوئی حاجت ہوتی تو اس کے ساتھ جا کر پوری کوشش کر کے کام کرا دیتے۔لوگوں کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔قاضی صاحب کی زبان اس قدر شیریں تھی کہ لوگ محبت سے ان کا کلام سنتے۔حضرت مسیح موعود کے فدائی تھے۔آپ کو حضرت احمد علیہ السلام یا احمد قادیانی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔آپ غیر احمدی اور مخالف علماء سے سخت سے سخت باتیں سن کر نہایت متانت اور مومنانہ انداز میں دلائل پیش کر کے ان کو چپ کرا دیتے تھے۔آپ نے پشتو ، فارسی اور اردو میں متعدد تبلیغی رسائل اور کتابیں لکھیں۔آپ کا منظوم کلام بھی موجود ہے۔بالعموم عصر کی نماز کے بعد قرآن کریم کا درس دیتے تھے جس میں احمدی و غیر احمدی شامل ہوتے۔درس ایسا پُر لطف ہوتا جسے چھوڑنے کو جی نہ چاہتا۔مخالفین گلی سے گزرتے گالیاں دیتے۔بیٹھے ہوئے لوگوں پر پتھر چلاتے مگر کیا مجال کہ درس میں ذرا بھر بھی رکاوٹ ہو۔مغرب کی نماز کے بعد انجمن کے اردگرد رہنے والے اپنے اپنے گھروں سے روٹی لا کر مسجد میں مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھاتے۔کھانا کھاتے جاتے اور قاضی صاحب پُر لطف کلام سناتے چلے جاتے۔ہر آدمی سن کر دل میں مسرت محسوس کرتا۔ہفتہ میں کم از کم ایک بار ضرور باہر تبلیغ کے لئے تشریف لے جاتے۔مجھے ان کے ساتھ اسلامیہ کالج سفید ڈھیری ، پبی، مردان، نوشہرہ اور پشاور کے مضافات میں جانے کا موقع ملا ہے۔خوانین کے مکان پر جاکر ان کے علماء اور گاؤں کے عوام کو بلا کر ایسی عمدہ باتیں کرتے کہ ان کے شبہات پل بھر میں دور کر دیتے۔دلائل کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتے کہ کوئی عالم اسے توڑ نہ سکتا۔قاضی صاحب کے کلام کو لوگ بطور اتھارٹی تسلیم کرتے۔غیر مبائع حضرات سے بھی ملتے ان سے تبادلہ خیالات کرتے ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے۔انہیں اپنی مسجد میں لاتے اور خاطر و مدارات کرتے۔قیدیوں اور دیگر محتاجوں کی بھی مدد کرتے اور ان کے گھر والوں کی حسب توفیق امداد فرماتے۔گھر باہر، بازار میں چلتے پھرتے کسی کی موت پر ، گاڑی میں ، تانگہ پر غرض ہر حالت میں احمدیت کا پیغام دوسروں تک پہنچاتے۔غرض ایک غیور اور جواں مرد، راست گو اور احمدیت کے فدائی بزرگ تھے۔جنہوں نے ساری عمر تبلیغ اسلام میں۔