تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد 22 9 سال 1963ء تاثر پیدا کرنا چاہا کہ احمدیوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا ہے حالانکہ یہ امر بالکل بے بنیاد اور جماعتی روایات کے سراسر منافی تھا۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں متعد دمباہلوں کا ذکر موجود ہے بلکہ ایک سال قبل مارچ ۱۹۶۲ء میں مباہلہ سورو ( اڑیسہ ) ہو چکا تھا۔جس میں مخالفین احمدیت خصوصاً ان کے علماء خدا کے قہر و غضب کا نشانہ بنے اور احمدیوں پر افضال ربانی کی بارش ہوئی۔ع اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار بہر حال پبلک کو اصل حقائق سے باخبر رکھنے کے لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے یکم مارچ ۱۹۶۳ء کو حسب ذیل وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔”مولوی منظور احمد صاحب چنیوٹی کی دعوت مباہلہ اور ہنگامہ آرائی پر دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ سے متعلق جو خبریں شائع ہوئی ہیں۔ان میں بعض اخبارات نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا جماعت احمدیہ نے دعوت مباہلہ قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔یہ تاثر سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔جماعت احمد یہ اسلام کے مقرر کردہ طریق کے مطابق بعد تصفیہ شرائط مباہلہ کرنے پر آمادہ تھی لیکن مولوی منظور احمد نے شرائط کا تصفیہ کئے بغیر ہی از خود مباہلہ کی تاریخ مقرر کر کے اعلان کر دیا کہ وہ عید الفطر کے موقعہ پر نماز عید کے بعد دریائے چناب کے دونوں پلوں کے درمیان مباہلہ کا اجتماع کریں گے۔ان کا تصفیہ شرائط سے گریز اور ان کی یہ سراسر یکطرفہ کارروائی صاف اس امر پر دلالت کرتی تھی کہ وہ محض ہنگامہ آرائی اور فساد کی نیت سے یہ سارا کھیل کھیل رہے ہیں۔چنانچہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب جھنگ نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر کے اس ہنگامہ آرائی کا دروازہ بند کر دیا۔مولوی منظور احمد جس ہنگامہ آرائی پر تلے ہوئے تھے اس کا پس منظر یہ ہے کہ انہوں نے ایک عرصہ قبل حضرت امام جماعت احمدیہ کو مباہلہ کی دعوت دی۔اس کے جواب میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مباہلہ کوئی کھیل نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ سے حق و باطل میں فیصلہ کرانے کا آخری طریق ہے جس کے لئے کچھ شرائط ہیں۔جن کا پہلے طے ہونا ضروری ہے۔ان میں سے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ مباہلہ وسیع الاثر ہو یعنی دونوں طرف سے ایسے علماء اور لیڈ رمیدان میں آئیں جو اپنی اپنی جماعت یا قوم میں نمائندوں کی حیثیت رکھتے ہوں۔تا کہ ان پر مباہلہ کا اثر ساری جماعت یا قوم پر حجت ہو سکے۔چنانچہ مولوی منظور احمد نے اس تعلق میں جو آخری چٹھی لکھی تھی۔اس کے جواب میں جماعت احمدیہ کی طرف سے انہیں لکھا گیا :۔