تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 8
تاریخ احمدیت۔جلد 22 8 سال 1963ء اور دیگر دوستوں کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ قرآنی ارشاد خُذُوا حِذْرَكُمْ (النساء:۷۲) کے ماتحت ہوشیار اور چوکس رہیں اور مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر خاص طور پر ملحوظ رکھیں :۔(۱) اپنے علاقہ میں ہر قسم کے فتنہ کی اطلاعات سے پوری طرح باخبر رہنے کی کوشش کریں۔(۲) جہاں جہاں کوئی فتنہ کی چنگاری نظر آئے وہاں علاقہ کے حکام یعنی ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس وغیرہ کو صحیح صحیح اطلاع بھجواتے جائیں جس میں کسی قسم کا مبالغہ نہ پایا جائے۔(۳) مرکز میں بھی یعنی ناظر امور عامہ اور ناظر اصلاح وارشاد کو بھی اطلاع بھجواتے رہیں۔(۴) انصاف پسند با اثر غیر احمدی اصحاب کے ساتھ تعلقات بڑھائیں اور جماعت کے متعلق جو غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں ان کا بصورت احسن ازالہ کرتے رہیں۔(۵) ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں سے کام لیں اور خدا کے حضور گر کر دعا کرتے رہیں کہ وہ حکم الحاکمین جماعت کا حافظ و ناصر ہے اور اسے ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔(۶) اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں کیونکہ پاک تبدیلی خدا کی نصرت کو کھینچتی ہے۔(۷) اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو کسی رنگ میں اشتعال دلانے والی یا عوام میں بیجان پیدا کرنے والی ہو۔والسلام۔خاکسار مرزا بشیر احمد صدر نگران بور ڈ ر بوه مباہلہ کے نام پر ایک افسوسناک حرکت اور جماعت احمدیہ کی وضاحت اس سال مولوی منظور احمد صاحب چنیوٹی ( یہ مولوی چنیوٹ کا رہنے والا تھا۔شدید معاندین سلسلہ میں شامل تھا۔۷۵ سال کی عمر میں احمدیت کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حسد کی آگ میں جل کر ۲۷ جون ۲۰۰۴ء کو دار فانی سے کوچ کر گیا) نے رمضان المبارک کے مقدس ایام میں یہ افسوس ناک حرکت کی کہ شرائط مباہلہ کا تصفیہ کئے بغیر از خود مباہلہ کی ایک تاریخ مقرر کر کے اعلان کر دیا که ۲۶ فروری ۱۹۶۳ء کو نماز عید الفطر کے بعد (ربوہ سے متصل ) دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان مباہلہ کریں گے۔مباہلہ سے عملا گریز کا بعینہ یہ وہی طریق تھا جو ۱۹۳۵ء میں محض ہنگامہ آرائی کے لئے احراری لیڈروں نے اختیار کیا اور جس پر مولوی ثناء اللہ امرتسری اور ادارہ اخبار " احسان (لاہور) نے بھر پور تبصرہ کیا تھا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب جھنگ نے چنیوٹی صاحب کے اس اقدام کو دو فرقوں کے درمیان اشتعال اور منافرت کا موجب تصور کیا اور دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی لیکن پنجاب کے بعض اخبارات نے یہ