تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 224 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 224

تاریخ احمدیت۔جلد 22 224 سال 1963ء اپریل ۱۹۳۵ء میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر الحکم نے آپ کی روایات سپرد اشاعت کرتے ہوئے لکھا:۔" قاضی صاحب ایک زبر دست اہل قلم اور مشہور مصنف اور شاعر ہیں۔صوبہ سرحد میں ان کی شخصیت تمام احمد یوں میں مسلمہ ہے۔منکرین خلافت کے رڈ میں ان کی قوت علمی نے بڑا کام 166 کیا۔13 و جون ۱۹۳۵ء کو پشاور بازار قصہ خوانی میں ایک احراری عبدالعزیز نے آپ پر پستول سے حملہ کیا مگر خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے آپ کی حفاظت فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی بریت کے واسطے پستول میں گولی ٹیڑھی کر دی اور پستول چل نہ سکا اور آپ نہ صرف دشمن کے بھر پور وار سے معجزانہ طور پر بچ گئے بلکہ خدا نے اس کے توہین رسول کے الزام کو جھوٹا ثابت کیا اور اسے 9 سال قید کی سزا ہوئی۔۱۹۳۹ء خلافت جوبلی کے موقع پر مردانہ سٹیج سے چودہ ایڈریس حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی 14 خدمت میں پیش کئے گئے ان میں چھٹے نمبر پر صوبہ سرحد کا ایڈریس پیش کیا گیا۔جس کی سعادت حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کے حصہ میں آئی۔اس ایڈریس کا ذکر حضرت مصلح موعود نے خاص طور پر نہایت درجہ خوشنودی کے رنگ میں درج ذیل الفاظ میں فرمایا :۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندر اندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا۔لیکن سوائے اس ایڈریس کے جو صوبہ سرحد کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے اس میں حقیقی اسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے۔اور اس لئے میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور محض چھاپ لینے کو میں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔باقی جو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں ان میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نباہ سکے اور اس کی قدر دانی کے طور پر میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان کا سارا ایڈریس پڑھوں گا۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کی دینی خدمات کا سلسلہ بہت طویل ہے۔آپ نے ایک لمبے عرصہ تک پہلے قادیان اور پھر ربوہ میں مجلس مشاورت میں نمائندگی کے کامیاب فرائض ادا کئے اور بعض سب کمیٹیوں کے ممبر بھی مقرر ہوئے۔آپ نے تیرھویں صدی کے مجد داور حضرت سید احمد بریلوی اور 16