تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 225
تاریخ احمدیت۔جلد 22 225 سال 1963ء حضرت شاہ اسماعیل شہید کے مزار بالا کوٹ پر کتبے نصب کرائے۔آپ کی وہ مساعی جمیلہ جو آپ نے بہت سے احباب کو ملازمتیں دلانے اور تعلیم دلوانے میں کیں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔آپ ایک لمبا عرصہ تک امیر صوبہ سرحد کے منصب پر فائز رہے اور آخر دم تک اپنے فرائض کمال مستعدی، جوش عمل ، اور زبر دست ولولہ کے ساتھ ادا کرتے رہے۔آپ کے زمانہ امارت میں صوبہ سرحد کی جماعت نے غیر معمولی ترقی کی۔پشاور شہر، سول کوارٹرز پشاور، بگٹ گنج مردان ، ہوتی ، کو ہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خاں کیمل پور، ایبٹ آباد میں شاندار مساجد تعمیر ہوئیں۔آپ نے مہتران چترال سرداران افغانستان اور انگریزی حکام تک بڑی جرات سے احمدیت کا پیغام پہنچایا اور کامیاب مباحثے کئے۔اپریل ۱۹۴۸ء میں جب حضرت مصلح موعود نے قیام پاکستان کے بعد صوبہ سرحد کا کامیاب سفر فر مایا تو آپ کو حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔آپ کے ذریعہ سے صوبہ سرحد کے چوٹی کے خاندانوں تک آواز پہنچی اور متعدد شرفاء اور معززین شامل احمدیت ہوئے۔جن کی فہرست درج ذیل کی جاتی ہے۔فہرست مبایعین بزمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (۱) بابو دلاور خان صاحب ولد محمد امیر خان صاحب سا کن اسماعیلیہ ضلع مردان (۲) خانزادہ امیر اللہ خان صاحب خلف خدا داد خان اسماعیلیہ ضلع مردان (۳) حضرت مولوی عطاء اللہ شہید ساکن اسماعیلیہ ۱۹۰۴ء (۴) بابومحمد عالمگیر خان صاحب اوورسیئر ساکن اسماعیلیہ ۱۹۰۵ء (۵) میرزا شربت علی خان صاحب خلف محمد عمر خان صاحب ساکن کو چہ بھوانی داس جہانگیر پورہ شہر پشاور ۱۹۰۴ء (۶) (۷) امیر خسر وصاحب اور حیدر علی خان صاحب پسران محمد عمر خان صاحب کو چہ بھوانی داس ۱۹۰۴ء (۸) الف دین صاحب متبنی عبدالکریم صاحب ٹھیکیدار منڈی بیری طالب علم اسلامیہ ہائی سکول پشاور (۹) خان زادہ محمد یوسف خان صاحب خلف خاوی خان صاحب ساکن زیده ضلع مردان طالبعلم اسلامیہ ہائی سکول پشاور ۱۹۰۴ء (۱۰) خان محمد ارشاد علی خان صاحب خلف خان محمد ابراہیم خان صاحب ساکن زید ضلع مردان مقیم ہری پور ۱۹۰۶ء