تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلد 22 223 سال 1963ء کی خدمت میں پیش کیا۔حضور بہت خوش ہوئے۔اور ۲۸ دسمبر ۱۹۱۲ ء کو آپ کو ایک خصوصی تحریر دی جس میں حضور نے رقم فرمایا:۔انشاء اللہ بہت دعا کروں گا۔ایک رؤیا ہے حضرت عمر فر ماتے ہیں ایران بر باد ہو گئی۔اب گو مجھے تبتر ا کرتے ہیں مگر اس کی پرواہ نہیں۔میں اب فوجیں تیار کرتا ہوں اللہ کرے تم بھی افسر فوج 66 ہو جاؤ۔10 حضرت قاضی صاحب خلافت ثانیہ کے آغاز میں ہی ایک پُر جوش مبلغ اور قلمی مجاہد کی حیثیت سے صوبہ سرحد کے مطلع پر ابھر آئے تھے اور بہت جلد اپنی تقریروں اور تحریروں سے سرحد کی مذہبی فضا پر چھا گئے۔خصوصاً لاہوری تحریک کے اثرات زائل کرنے میں آپ نے فی الحقیقت افسر فوج کا کردار ادا کیا۔آپ ہی کی تحریک پر ۱۹۴۰ء میں حضرت مولانا غلام حسن خاں صاحب پشاوری نے حضرت مصلح موعود کی بیعت خلافت کی۔صدر انجمن احمد یہ قادیان کی ایک ابتدائی سالانہ رپورٹ میں آپ کی شاندار علمی خدمات کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتا ہے۔منی الفین سلسلہ کے مقابل میں تحریر و تصنیف اور تبلیغ کے کام میں ہمارے مکرم و معظم جناب مولانا قاضی محمد یوسف صاحب احمدی جس طرح ہمیشہ سے ممتاز ہیں اسی طرح سالِ حال میں بھی انہوں نے کوئی موقع فروگذاشت نہیں کیا جس میں انہوں نے یہاں کے غیر مبائعین پر اتمام حجت نہ کیا ہو۔احباب اخبارات سلسلہ میں ان کے خیالات کا مطالعہ اکثر کرتے ہی رہے ہوں گے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک انعامی چیلنج لکھ کر انجمن ہذا کی طرف سے شائع کرایا جس پر کئی ماہ گزر گئے مگر مخالفین میں سے کسی کو مقابلہ پر آنے کی جرات نہ ہوئی۔جناب قاضی صاحب موصوف اپنی ذاتی قابلیت کے لحاظ سے ہماری جماعت کے روح رواں ہیں اور اس لئے ہماری جماعت کے اندرونی نظام، استحکام اور روز افزوں ترقی و کامیابی کا سہرا انہی کے سر ہے۔انجمن ہذا کی لائبریری ۱۹۱۴ء سے بدستور جاری ہے جس میں جناب قاضی محمد یوسف صاحب احمدی کی مساعی جمیلہ اور حسن انتظام سے علاوہ سلسلہ کی جملہ کتب کے بہت سی دیگر مفید اور نادر کتا ہیں بھی مہیا کی گئی ہیں۔سال زیر پورٹ میں مبلغ ۳۵ روپے کی کتابیں لائبریری میں ایزاد کی گئیں۔11 66