تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 219 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 219

تاریخ احمدیت۔جلد 22 219 سال 1963ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال ۱۹۶۳ء میں کئی اکابر اور بزرگ صحابہ راہ گیر عالم بقا ہوئے۔حضور کے پاک باز صحابہ میں سے کسی کا اس جہان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو جانا کوئی ایسا صدمہ نہیں جو بھلایا جاسکے۔یہ نادر وجود ایک ایک کر کے رخصت ہورہے تھے اور جو باقی رہ گئے ان کی شمع حیات بھی چراغ سحری کی طرح ٹمٹمار ہی تھی اور تابعین پر سلسلہ کی خدمت کی ذمہ داریاں روز بروز بڑھتی جارہی تھیں۔اس سال ۴ جنوری کی تاریخ گویا يوم الحزن تھی کیونکہ اس روز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے تین صحابہ کرام کا انتقال ہوا۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ صوبہ سرحد ولادت : یکم ستمبر ۱۸۸۳ء بمطابق ۲۸ شوال ۱۳۰۰ھ - I بیعت تحریری: ۱۵ جنوری ۱۹۰۲ء۔بیعت دستی دسمبر ۱۹۰۲ء 1 حضرت قاضی صاحب کی خود نوشت روایات مورخہ ۱۳ نومبر ۱۹۳۹ء کے مطابق آپ کی پیدائش ۱۷، ۱۸ شوال ۱۳۰۲ھ مطابق ۹ ۱۰ را گست ۱۸۸۵ء کو ہوتی مردان میں ہوئی۔وفات : ۴ جنوری ۱۹۶۳ء 1 حضرت قاضی محمد یوسف صاحب سلسلہ احمدیہ کے نہایت پر جوش خادم اور صاحب کشف والہام اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے ( آپ کے قلمی نوٹس میں متعدد و یا وکشوف اور الہامات کا تذکرہ ملتا ہے۔قلمی نوٹس شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہیں )۔آپ مسلسل ساٹھ سال تک ایک جری پہلوان کی طرح خدمت دین میں پورے جذبہ ایمانی کے ساتھ مصروف جہاد رہے۔آپ کا شجرہ نسب کئی واسطوں کے ساتھ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک جا پہنچتا ہے۔آپ کے خاندان میں حضرت سلطان ابراہیم ادہم ، فرخ شاہ ، بادشاہ کابل اور حضرت شیخ مجددالف ثانی احمد سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ جیسے مشاہیر امت گذرے ہیں۔آپ کے جد اعلیٰ قاضی محمد قابل ایران کے بادشاہ نادرشاہ کے عہد حکومت میں ہوتی (متصل مردان) میں آکر آباد ہوئے اور قاضی القضاۃ مقرر ہوئے۔آپ کے پڑدادا حضرت قاضی میر عبدالصمد صاحب حضرت سید احمد بریلوی کے مرید اور معاون تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام قاضی محمد صدیق تھا۔