تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 206 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 206

تاریخ احمدیت۔جلد 22 206 سال 1963ء آسمانی نوشتوں میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہوگا اور جو اس پر آگر اوہ بھی چکنا چور ہوگا۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے مردوں اور ان کی عورتوں اور ان کے بچوں اور ان کے بوڑھوں کو اپنے فرائض کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اپنے فضل سے وہ طاقت بخشے جس سے وہ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دیں۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔آمین یارب العالمین خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ۲۸ دسمبر ۱۹۶۳ء جلسہ کے متعلق ایک معزز غیر احمدی کے مشاہدات 256 اس جلسہ سالانہ میں سرگودھا کے ایک غیر احمدی معزز دوست جناب محمد اکرم خاں صاحب کو بھی شرکت کا موقعہ ملا اور وہ یہاں قال اللہ اور قال الرسول کے روح پرور نغموں کو سن کر از حد متاثر ہوئے اور انہوں نے ایک مکتوب میں اپنے مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ:۔ایک تاثر۔ایک حقیقت جناب مدیر لاہور ہدیہ تسلیمات ! میں آپ کی خدمت میں اپنا ایک مشاہدہ بھجوا رہا ہوں۔امید ہے آپ اسے لاہور میں شائع کر کے اُن غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیں گے جو ہمارے اپنی طرف سے مجبور ) علماء سوء اسلام کی ایک فدائی جماعت کے متعلق آئے دن پھیلاتے رہتے ہیں۔جناب والا! بعض ” بگاڑ بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں سے سنوار کے پہلو نکل آتے ہیں۔ہماری بس سرگودھا سے آتی ہوئی احمد نگر کے برابر پہنچ کر کچھ ایسی بگڑی کہ ہم مایوس ہو کر پیدل ہی چنیوٹ کی سمت روانہ ہو گئے۔اور پھر کوئی پون میل کی پیدل مسافت کے بعدر بوہ کے اڈے پر آ گئے۔جہاں ان دنوں خوب گہما گہمی تھی۔دل نے کہا۔چلو آج ربوہ کی سیر اپنی آنکھوں سے بھی کر دیکھیں۔لائکپور کا ایک مولوی تو منبر پر سوار ہو ہو کر اکثر اس جماعت کے متعلق عجیب و غریب فیلر چھوڑتا رہتا ہے۔چنانچہ میں سیدھا وہاں سے جلسہ گاہ میں پہنچا۔جہاں ستر پچھتر ہزار کے لگ بھگ افراد زمین پر پرالی پر بیٹھے اپنی جماعت کے علماء کی تقریریں سن رہے تھے۔جب میں پہنچا۔ایک سوئٹزرلینڈ کا گورا مسلمان، انگریزی میں حاضرین جلسہ کو خطاب کر رہا تھا۔میں اُس کی تقریر کا جتنا حصہ سن پایا یہ تھا۔