تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 205
تاریخ احمدیت۔جلد 22 205 سال 1963ء سے کام لیں اور اس بارہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔یہ امر یاد رکھیں کہ وہی شاخ سرسبز رہ سکتی ہے جس کا اپنے درخت کے ساتھ پیوند ہو۔ورنہ اگر ایک تازہ شاخ کو درخت سے کاٹ کر پانی کے تالاب میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ کبھی سرسبز نہیں رہ سکتی۔پس مرکز کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار رکھو اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت پر بہت زور دو اور اپنی آئندہ نسل کی درستی کا فکر کرو۔مجھے نظر آ رہا ہے کہ جماعت کو اپنی آئندہ نسل کی درستی کا خاص فکر نہیں اور یہ ایک نہایت ہی خطرناک بات ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ تحریک جدید کے دور اول میں تو بڑی کثرت کے ساتھ لوگوں نے حصہ لیا۔مگر نئے دور میں شامل ہونے والوں کی تعداد ان کی نسبت کے لحاظ سے بہت کم ہے اور پھر جو لوگ وعدہ کرتے ہیں وہ وقت کے اندر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ اشاعت اسلام کا کام کسی ایک نسل کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ قیامت تک اس نے جاری رہنا ہے۔پس اپنے اندر صحیح معرفت پیدا کرو اور اپنی آئندہ نسلوں کو اسلام کا بہادر سپاہی بنانے کی کوشش کرو اور اس نکتہ کو کبھی مت بھولو کہ قربانی اپنا پھل تو ضرور لاتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ساری قربانیوں کا پھل وہ خود ہی کھائے اس سے زیادہ نادان اور کوئی نہیں ہو سکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک وادی غیر ذی زرع میں رکھا مگر اس کا پھل ایک مدت دراز کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہوا اور دنیا اس پھل کو دیکھ کر حیران رہ گئی پھر تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا بدلہ تمہیں آج ہی ملنا چاہئیے۔اگر تمہاری نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اٹھالے تو حقیقتا تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں مل گیا۔پس اپنے ذہنوں میں چلا اور اپنے فکر میں بلندی پیدا کرو اور قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے کی طرف قدم بڑھاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ اپنی تائیدات سے تمہیں اس طرح نوازے گا کہ تم دنیا کے میدان میں ایک فٹ بال کی حیثیت نہیں رکھو گے بلکہ تم اس برگزیدہ انسان کا ظل بن جاؤ گے جس کے متعلق