تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد 22 7 سال 1963ء نقض عہد کے ۵۶ واقعات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا تاہم روس اس کتاب کے اوراق سے بہت سے اہم سبق سیکھ سکتا ہے۔سرظفر اللہ جو اسلامی احکام کی تعمیل میں بالالتزام دن میں پانچ مرتبہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں لکھتے ہیں:۔اسلام میں معاہدات اور ان کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ایک خاص حرمت حاصل ہے۔ہمیں متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اپنے عہدوں کو در پردہ مقاصد کے حصول کا آلہ کار نہ بناؤ۔ورنہ تمہارا قدم ایک دفعہ مضبوطی سے قائم ہونے کے بعد پھسل جائے گا اور پھر تمہیں اس کے برے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے مسلمانوں کی مدد کرے جن پر محض ان کے مذہب کی وجہ سے ظلم ڈھایا جارہا ہو لیکن یہ فریضہ معاہدات کی پابندی کے ساتھ مشروط ہے۔ان کے بارہ میں یہی حکم ہے کہ ان کا ایفا کما حقہ عمل میں آنا چاہیئے۔ایک سازش اور اسکے خلاف احتیاطی تدابیر جیسا کہ ۱۹۶۲ء کے واقعات میں بتایا جا چکا ہے۔۱۹۶۲ء کے آخر ہی سے مرکز سلسلہ ربوہ میں ، اطلاعات موصول ہونی شروع ہو گئیں کہ پاکستان میں دوبارہ ۱۹۵۳ء کے حالات پیدا کرنے کی در پرده سازش جاری ہے۔اس فکر انگیز صورت حال کے پیش نظر اس سال کے شروع میں صدر نگران بورڈ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ملک بھر کے تمام علاقائی اور ضلع دار امراء کو اس فتنہ سے ہوشیار رہنے اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تحریک فرمائی اور اس سلسلہ میں حسب ذیل مکتوب گرامی سپرد قلم فرمایا جو احتیا طارجسٹری بھجوایا گیا۔مکرمی و محترمی امیر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اخباری اطلاعات اور مختلف جلسوں کی رپورٹوں نیز دیگر ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ اب پھر جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت کا سیلاب تیزی کے ساتھ اٹھ رہا ہے اور ختم نبوت کے عقیدہ کی آڑ لے کر اور دیگر غلط اعتراضات اٹھا کر جماعت کے خلاف عوام کو اور حکومت کو اکسایا جا رہا ہے اور سازش یہ معلوم ہوتی ہے کہ ۱۹۵۳ء والے حالات پیدا کر دئیے جائیں۔پس میں جماعت کے امیروں