تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 204
تاریخ احمدیت۔جلد 22 204 سال 1963ء مجھے ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاما یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ اللّهُمَّ زِدْ فَزِدْ عَلَى نَهْجِ الصَّلَاحِ وَالْعِفَّةِ يعنى اے خدا آنے والے تو آئیں گے مگر تو انہیں توفیق عطا فرما کہ وہ نیکی اور اخلاص اور عفت کے راستوں پر چلتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں اور تیری رضا حاصل کریں۔پس تقویٰ اور عفت کے راستوں پر قدم ماریں اور ان ایام کو دعاؤں اور ذکر الہی میں بسر کریں اور آپس میں اخوت اور محبت بڑھانے کی کوشش کریں کہ اسی میں خدا اور اُس کے رسول کی خوشنودی ہے اور اسی میں ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو اس اجتماع کی برکات سے بہرہ ور فرمائے اور ابد الآباد تک اُس کی تائید اور نصرت آپ کے شامل حال رہے۔آمین یارب العالمین۔خاکسارمرزا محمود احمد حضرت مصلح موعود کا انتقامی پیغام "بسم الله الرحمن الرحيم خلیفہ اسیح الثانی ۲۵/۱۲/۶۳ 255 نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر برادران جماعت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اپنے خاص فضل سے یہاں تین دن دعاؤں اور ذکر الہی میں بسر کرنے اور خدا اور اس کے رسول کی باتیں سننے کی جو تو فیق عطا فرمائی ہے اس کا یہ احسان تقاضا کرتا ہے کہ اب آپ پہلے سے بھی زیادہ دعاؤں اور انابت الی اللہ پر زور دیں اور سلسلہ کی اشاعت اور اسلام کی ترقی کے لئے والہانہ جد و جہد