تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 202 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 202

تاریخ احمدیت۔جلد 22 202 سال 1963ء حضرت مصلح موعود کا افتتاحی پیغام یہ افتتاحی پیغام ۲۶ دسمبر ۱۹۶۳ء کے افتتاح کے موقع پر حضور کے ارشاد کے ماتحت خالد احمدیت مولا نا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنایا ) "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر برادران جماعت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ لوگوں کو اس سال پھر یہ توفیق عطا فرمائی کہ آپ اس کے مامور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دنیوی علائق اور زنجیروں کو توڑ کر اپنی روحانی اور علمی ترقی کے لئے مرکز سلسلہ میں تشریف لائے۔یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ آپ نے اس کے مامور کو قبول کیا اور پھر اس کی طرف سے جو آواز اٹھی اسے آپ نے سنا اور اس پر عمل کیا۔بے شک ہمارا یہ جلسہ دوسرے د نیوی جلسوں سے مشابہت رکھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے اُن سے ایک نمایاں امتیاز حاصل ہے۔وہ لوگ محض دنیوی ترقی اور مفاد سے تعلق رکھنے والی سکیموں کے ما تحت اکٹھے ہوتے ہیں لیکن آپ لوگوں کا یہ اجتماع خالص روحانی ہے۔جس سے کوئی دنیوی غرض وابستہ نہیں بلکہ آپ صرف اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کی باتیں سن کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں اور اس کے دین کی خدمت کا ایک نیا جذ بہ اپنے اندر پیدا کر کے واپس جائیں۔پس آپ لوگوں کی مشابہت دنیادار لوگوں سے نہیں بلکہ آپ ان صحابہ کرام سے مشابہت رکھتے ہیں جو غزوہ حنین میں اپنی سواریوں کی گردنیں کاٹ کر خدا کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گئے تھے۔