تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 194 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 194

تاریخ احمدیت۔جلد 22 194 سال 1963ء ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:۔تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔آپ نے عرب کے ایک متمول گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود بہت سادہ طبیعت پائی تھی۔آپ بہت تقوی شعار، مخلص اور منکسر المزاج خاتون تھیں بالخصوص غرباء کے ساتھ بہت محبت و شفقت کا سلوک روا رکھتی تھیں اور علالت طبع کے باوجود اکثر اوقات اُن کے گھروں میں خود تشریف لے جاتیں اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھیں۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ تحریر فرماتی ہیں:۔244۔آپ بہت باقاعدگی سے لجنہ اماء اللہ کے اجلاسوں میں شرکت کرتیں۔ماہانہ جلسوں اور درس کا انتظام ایک لمبے عرصہ تک آپ کے ذمہ رہا جسے آپ خوش اسلوبی سے ادا کرتی رہیں۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی ہر سال مفوضہ خدمت بجالا تیں اور جو بھی کام سپر د کیا جا تا بشاشت قلب سے بجالا تیں۔آپ کو تحریک جدید کی اولین مجاہدات میں شمولیت کی سعادت بھی حاصل تھی۔آپ کے بطن سے دو فرزند پیدا ہوئے۔(۱) محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ( ناظر دعوت و تبلیغ قادیان بعد ازاں ناظر اعلیٰ و امیر مقامی قادیان)، (۲) صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب واقف زندگی افسرامانت تحریک جدید) صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کو کئی سال تک خصوصاً بیماری کے آخری ایام میں اپنی والدہ ماجدہ کی شب روز خدمت کی سعادت نصیب ہوئی مگر صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب جو ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء سے قادیان میں درویشانہ زندگی گزار رہے تھے اور اگر چہ اس عرصہ میں کئی بار پاکستان تشریف لائے۔مگر حضرت سیدہ کی وفات کے وقت آپ قادیان میں تھے کہ سوا نو بجے شب آپ کو یہ اندوہناک اطلاع ملی اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا فوری انتظام ہوا کہ آپ اگلے دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب ربوہ پہنچ گئے۔اور نماز جنازہ اور تدفین کے انتظام میں شامل ہوئے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ میرے پاس پاسپورٹ بھی تھا اور ویزا بھی چنانچہ خاکسار